• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10420
    Azam
    Moderator

    تیس اکتوبر کو شنگھائی میں اعلیٰ ترین سائنسدانوں کے تیسرے عالمی فورم کا انعقاد ہوا۔چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے فورم سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-۱۹ کی وبا پھوٹنے کے بعد مختلف ممالک کے سائنسدان انسداد وبا کے لیے بھر پور کوششوں کررہے ہیں اور علاج، دوا ،ویکسین کی تحقیق و تیاری اور وبا کی روک تھام و کنٹرول سمیت متعدد اہم شعبوں میں کام کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون بھی کررہے ہیں۔یہ لوگ انسداد وبا کے لیے اہم ترین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

    موجودہ صورتحال کے تناظر میں کورونا وائرس کے خلاف دوا، ویکسین اور ٹیسٹ پرتحقیق کے لیے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اورانسانی صحت سمیت مشترکہ امور پر توجہ دیتے ہوئے ٹیکنالوجی سے بہتر استفادہ کیا جانا چاہیے۔

    چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق  شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین ٹیکنالوجی کی جدت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور جدت کو ترقی کی قوتِ محرکہ مانتا ہے۔

    چین کھلےپن، وسعت اور مشترکہ مفادات اور اشتراک کے بین الاقوامی ٹیکنالوجی تعاون کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرے گا ، دنیا کے اعلیٰ ترین سائنسدانوں اور عالمی ٹیکنالوجی تنظیموں کے ساتھ مل کر تعاون کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سائنسدان مثبت تبادلہ خیال کریں گے، تعاون کو آگے بڑھائیں گے اور مشترکہ طور پر عالمی سائنس کو فروغ دیں گے۔

    موجودہ فورم کا موضوع ہے “سائنس وٹیکنالوجی، بنی نوع انسان کی مشترکہ منزل کے لیے “۔فورم بیک وقت آن لائن اور آف لائن منعقدہورہا ہے۔ ۶۱ نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں سمیت تین سو سے زائد سائنسدان فورم میں شریک ہیں۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.