Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #13834
    Shahid Masood
    Participant

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تجارت اورسرمایہ کاری بڑھانے کے لئے اقتصادی روابط کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

    انہوں نے پیر کے روز برلن میں وفد کی سطح پر مذاکرات کے بعد جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکوماس کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے لئے پاکستان میں قابل تجدید توانائی، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے جرمن ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان کی پالیسی جغرافیائی، سیاسی سے جغرافیائی معیشت پر منتقل ہو گئی ہے اور حکومت اقتصادی سفارتکاری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو نئی مراعات کی پیشکش کر رہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ملکوں کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے تاہم پانچ اگست 2019ء کو کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدام کے بعد بھارت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول قائم کرے۔انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے حوالے سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور وہاں استحکام کیلئے جرمنی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔شاہ محمود قریشی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کا درجہ دینے کے حوالے سے جرمنی کی حمایت پر اس کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے پاکستان کو کورونا وائرس کے علاج کی ویکسین کی ڈیڑھ کروڑ خوراکیں فراہم کرنے پر بھی جرمنی کا شکریہ ادا کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے 70سال مکمل ہونے پر ایک LOGO جاری کر دیا گیا ہے۔جرمنی کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی پاکستان کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور فریقین نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر تعمیری بات چیت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے تنازعے کے پرامن حل کے لئے بڑی کوششیں کی ہیں۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.