Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7942
    Shaista Khan
    Participant

    ہمارے تذکروں اور رجال کی کتابوں میں علماء کے وہ اوصاف جن کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا جاتا ہے، تیزی ذہن، قوتِ حافظہ، بے نیازی، تواضع، قناعت، زہد غرض اسی قسم کے اوصاف ہوتے ہیں لیکن عقل و رائے، فراست و تدبیر کا ذکر تک نہیں آتا۔ یہ باتیں دنیا داروں کے ساتھ ہیں۔

    بلا شبہ اس خصوصیت کے اعتبار سے امام ابو حنیفہؒ تمام فرقۂ علماء میں ممتاز ہیں کہ وہ مذہبی امور کے ساتھ دنیوی ضرورتوں کے انداز داں تھے۔ یہ ضرور ہے کہ ملکی تعلقات کے ساتھ مذہب اور اخلاق کے فرائض کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن امام صاحب اس سے بھی بے خبر نہ تھے وہ ہمیشہ شاگردوں کو ایسی ہدایتیں کرتے رہتے تھے۔

    درباریوں کے متعلق نصیحتیں
    قاضی ابویوسفؒ کے لئے جو ہدایت نامہ لکھا تھا اُس تحریر میں پہلے سلطانِ وقت کے تعلقات کا ذکر کیا ہے۔

    چنانچہ لکھتے ہیں”بادشاہوں کے پاس بہت کم آمدورفت رکھنا جب تک کوئی خاص ضرورت نہ ہو دربار میں نہ جانا کہ اپنا اعزاز و وقار قائم رہے۔ بادشاہ اگر تم کو عہدہ قضا پر مقرر کرنا چاہے تو پہلے دریافت کر لینا وہ تمہارے اجتہاد سے موافق ہے یا نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ سلطنت کے دباؤ سے تم کو اپنی رائے کے خلاف عمل کرنا پڑے جس عہدہ اور خدمت کی تم میں قابلیت نہ ہو ہرگز قبول نہ کرنا۔

    اگر کوئی شخص شریعت میں کسی بدعت کا موجد ہو تو علانیہ اس کی غلطی کا اظہار کرنا کہ اور لوگوں کو اس کی تقلید کی جرأت نہ ہو اس بات کی کچھ پرواہ نہ کرنا کہ وہ شخص جاہ و حکومت رکھتا ہے کیونکہ اظہارِ حق میں خدا تمہارا مددگار ہو گا اور وہ اپنے دین کا آپ محافظ و حامی ہے۔ خود بادشاہ سے اگر نامناسب حرکت صادر ہو تو صاف یہ کہہ دینا کہ آپ کو آپ کی غلطی پر مطلع کر دینا میرا فرض ہے پھر بھی نہ مانے تو تنہائی میں سمجھانا کہ آپ کا یہ فعل قرآن مجید اور احادیث نبوی کے خلاف ہے اگر سمجھ گیا تو خیر، ورنہ خدا سے دعا کر نا کہ اس کے شر سے تم کو محفوظ رکھے۔

    معمولاتِ زندگی کے متعلق ہدایتیں
    زندگی کے معمولی کاروبار کے متعلق بھی نہایت عمدہ ہدایتیں کی ہیں چنانچہ تحریر فرماتے ہیں کہ”تحصیل علم کو سب پر مقدم رکھنا۔ اس سے فراغت ہو چکے تو شادی کرنا، ایسی عورت سے شادی نہ کرنا جو دوسرے شوہر سے اولاد رکھتی ہو۔ عام آدمیوں سے اور خصوصاً دولت مندوں سے کم میل جول رکھنا ورنہ انکو گمان ہو گا کہ تم ان سے کچھ توقع رکھتے ہو۔ بازار میں جانا، دکانوں پر بیٹھنا، راستہ یا مسجد میں کوئی چیزکھا لینا، ان باتوں سے نہایت احتراز رہے۔

    مزید فرماتے ہیں “ہنسنا کم چاہئے، زیادہ ہنسی سے دل افسردہ ہو جاتا ہے، جو کام کرو اطمینان اور وقار کے ساتھ کرو، کوئی شخص جب تک سامنے سے نہ پکارے کبھی جواب نہ دو کیونکہ پیچھے سے پکارنا جانوروں کے لئے مخصوص ہے، راستہ چلو تو دائیں بائیں نہ دیکھو، کوئی چیز خریدنی ہو تو خود بازار نہ جاؤ بلکہ نوکر بھیج کر منگوا لو خانگی کاروبار دیانتدار نوکروں کے ہاتھ میں چھوڑ دینا چاہئے کہ تم کو اپنے مشاغل کے لئے کافی وقت اور فرصت ہاتھ آئے، ہر بات سے بے پروائی اور بے نیازی ظاہر ہو اور فقر کی حالت میں بھی وہی استغناء قائم رہے۔

    دین سے متعلق راہنمائی
    ہر بات میں تقویٰ اور امانت کو پیشِ نظر رکھو۔ خدا کے ساتھ دل سے وہی معاملہ رکھو جو لوگوں کے سامنے ظاہر کر تے ہو۔ جس وقت اذان کی آواز آئے فوراً نماز کے لئے تیار ہو جاؤ، ہر مہینہ میں دو چار دن روزہ کے لئے مقرر کر لو، نماز کے بعد ہر روز کسی قدر وظیفہ پڑھا کرو، قرآن کی تلاوت قضا نہ ہو نے پائے، دنیا پر بہت نہ مائل ہو، اکثر قبر ستان میں نکل جایا کرو، لہو لعب سے پرہیز رکھو، ہمسایہ کی کوئی برائی دیکھو تو پردہ پوشی کرو۔ اہلِ بدعت سے بچتے رہو، نماز میں جب تک تم کو لوگ خود امام نہ بنائیں امام نہ بنو۔ جو لوگ تم سے ملنے آئیں ان کے سامنے علمی تذکرہ کرو اگر وہ لوگ اہلِ علم ہوں گے تو فائدہ اٹھائیں گے ورنہ کم از کم تم سے محبت ہو گی۔

    اقوالِ زریں
    اس موقع پر امام صاحبؒ کے حکیمانہ مقولے بھی سننے اور یاد رکھنے کے قابل ہیں فرمایا کرتے تھے کہ “جس شخص کو علم نے معاصی اور فواحش سے نہ باز رکھا تو اس سے زیادہ زیاں کار کون ہو گا؟ جو شخص علم دین میں گفتگو کرے اور اسکو یہ خیال نہ ہو کہ ان باتوں کی باز پرس ہو گی، وہ مذہب اور خود اپنے نفس کی قدر نہیں جانتا، اگر علماء خدا کے دوست نہیں ہیں تو عالم میں خدا کا کوئی دوست نہیں۔

    جو شخص قبل از وقت ریاست کی تمنا کرتا ہے ذلیل ہوتا ہے اور جو شخص علمِ دین کو دنیا کے لئے سیکھتا ہے علم اسکے دل میں جگہ نہیں پکڑتا۔

    سب سے بڑی عبادت ایمان اور سب سے بڑا گناہ کفر ہے۔

    ایک شخص نے پوچھا فقہ کے حاصل کرنے میں کیا چیز معین ہو سکتی ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا “دلجمعی” اس نے عرض کیا کہ دلجمعی کیونکر حاصل ہو؟ ارشاد ہوا کہ تعلقات کم کئے جائیں۔ پوچھا تعلقات کیونکر کم ہوں۔ جواب دیا کہ “انسان ضروری چیزیں لے لے اور غیر ضروری چھوڑ دے۔

    امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا “جو شخص مجلس میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ اس کی طبیعت بوجھل ہو تو اس نے فقہ اور اہلِ فقہ کے مراتب کو نہیں پہچانا۔

    عبد اللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہ نے فرمایا “جب عورت اپنی جگہ سے اٹھے تو تم س کی جگہ پر اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک وہ جگہ ٹھنڈی نہ ہو جائے۔

    امام ابو حنیفہؒ نے ابراہیم بن ادہم سے فرمایا کہ “ابراہیم! تم کو اچھی عبادت کی توفیق دے دی گئی ہے مناسب ہے کہ علم کی طرف توجہ رہے اس لئے کہ علم عبادت کی جڑ ہے اور اسی سے کام بنتا ہے۔

    ابو رجاء ہرویؒ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کو فرماتے ہوئے سنا کہ “جو شخص حدیث سیکھتا ہے اور اس سے استنباطِ مسائل نہیں کر تا وہ ایک عطار ہے جس کے پاس دوائیں ہیں لیکن یہ نہیں جانتا کہ کون کس مرض کیلئے ہیں۔

    ایک مر تبہ فرمایا “جو شخص علم کا ذوق نہیں رکھتا اس کے آگے علمی گفتگو کرنی اس کو اذیت دینی ہے۔”

    (امام ابو حنیفہ کی سوانح حیات شبلی نعمانی کے قلم سے)

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.