• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12772
    Farhan Khan
    Participant

    ویب ڈیسک — امریکہ میں برفانی طوفان اور شدید سرد موسم کی وجہ سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ طوفان کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے جاری ویکسی نیشن مہم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے طوفان سے متاثرہ ریاست ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔

    طوفان کے باعث اب تک دو ہزار سے زائد کرونا ویکسی نیشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے 60 لاکھ افراد تک ویکسین کی خوراکیں پہنچانے کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

    امریکہ 14 فروری سے شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ برفانی طوفان ہے جس نے کئی ریاستوں میں نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ریاست اوکلاہوما، آرکنساس اور ٹیکساس میں شدید موسم کی وجہ سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں۔

    برفانی طوفان کے سبب مختلف حادثات میں ملک بھر میں اب تک کم از کم 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    امریکہ کی فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کی جانب سے ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دیے جانے کے بعد ریاست کے شہریوں کے لیے اضافی فنڈنگ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    تیل اور گیس پیدا کرنے والی امریکی ریاست ٹیکساس میں لاکھوں لوگ بجلی سے محروم ہیں جب کہ ریاست کی آدھی سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔

    ٹیکساس میں آنے والے طوفان کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ کی ویکسین پہنچانے میں تیزی کو کوششوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    رواں ماہ کے آغاز میں اوسطً 15 لاکھ کرونا ویکسین کی خوراکیں ٹیکساس پہنچائی جاتی تھیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے کے اعدادوشمار کے مطابق ویکسین سپلائی میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر اینڈی سلاویٹ کا جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ موسم میں بہتری آ رہی ہے اور جمعے کو کرونا ویکسین کی 14 لاکھ خوراکیں پہنچائی گئیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ کرونا ویکسین کی رکی ہوئی خوراکیں اگلے ہفتے کے دوران پہنچا دی جائیں گی۔

    خراب موسم کے سبب ملک بھر میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)

    سلاوٹ کے مطابق سڑکوں پر جمع برف ہٹانے کا عمل جاری ہے تاکہ دوا ساز کمپنیوں کے ورکرز فیکٹریوں میں جا سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ورکرز اتوار کو بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔

    ادھر ‘موڈرنا’ کی تیار کردہ ویکسین کی پیکنگ کرنے والی ایک کمپنی میں طوفان کی وجہ سے کام بند ہے۔

    ریاست ٹیکساس، لوزیانا، مسی سپی کے لگ بھگ تین لاکھ صارفین بجلی سے محروم ہیں۔

    ایسے صارفین جنہیں پانی دستیاب نہیں ہے۔ ان کی تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ کے قریب ہے۔

    حکام کے مطابق صدر بائیڈن کے اعلان کردہ فنڈز ٹیکساس میں عارضی گھروں کی تعمیر، قرضوں کی فراہمی اور گھروں کی مرمت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکساس کے ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ کے ساتھ شہریوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی ایمرجنسی ایجنسیز نے پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس، اسپتالوں اور نرسنگ ہومز کے لیے جنریٹرز فراہم کیے تھے۔

    This article originally appeared on VOA Urdu
    Photos: AP

     

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.