• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10725
    Shahid Masood
    Participant

    (فوٹو: اے ایف پی)

    امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کی واپسی کے عمل میں تیزی لاسکتے ہیں۔

    وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر امریکی مسلح افواج کے نام اپنے پہلے پیغام میں کرسٹوفر ملر کا کہنا تھا کہ ‘تمام جنگوں کو اختتام پر آنا چاہیے۔’

    واضح رہے کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو مارک ایسپر کی جگہ کرسٹوفر ملر کو قائم مقام وزیر دفاع نامزد کیا تھا۔

    وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں کے 19 برس بعد بھی امریکہ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

    ‘ہم القاعدہ اور اس کے حمایتیوں کو شکست دینے کے قریب ہیں لیکن ہمیں ماضی کی سٹریٹجک غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے جس کی وجہ سے ہم جنگ کو اختتام تک پہنچانے میں ناکام ہوں۔’

    ‘بہت سے لوگ جنگ سے تنگ ہیں، میں ان میں سے ایک ہوں، لیکن یہ ایک اہم مرحلہ ہے جس میں ہم اپنے کردار کو قیادت سے منتقل کر کے معاون کا بنا دیں گے۔’

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘جنگوں کو ختم کرنے کے لیے سمجھوتے اور شراکت داری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے چیلجز پورے کیے۔ ۔اب گھر (واپس) آنے کا وقت آگیا ہے۔’

    ‘بہت سے لوگ جنگ سے تنگ ہیں، میں ان میں سے ایک ہوں‘ (فوٹو: اے ایف پی)

    اے ایف پی کے مطابق کرسٹوفر ملر نے یہ نہیں بتایا کہ کہاں سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی، تاہم القاعدہ کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ افغانستان اور عراق کی بات کررہے تھے کیونکہ 11 ستمبر کو ہونے والے حملوں کے بعد ان دو ممالک میں امریکی افواج کو تعینات کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع مارک ایسپر کو برطرف کردیا تھا۔

    تاہم ٹرمپ بھی اقتدار میں آنے کے وقت سے افغانستان اور عراق سے امریکی افواج واپس بلانے پر زور دے رہے ہیں۔

    لیکن ان کی جانب سے اس قسم کے کسی بھی فیصلے کے لیے صرف 67 دنوں کا وقت ہے، جس کے بعد 20 جنوری کو نو منتخب صدر جو بائیڈن باقاعدہ طور پر صدرارت سنبھال لیں گے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.