• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10500
    Shahid Masood
    Participant

    پنسلوانیا میں ووٹوں کی گنتی کا ایک منظر، 4 نومبر 2020

    Photo credit AP (Associated Press)

    ویب ڈسک — امریکی صدارتی انتخاب میں دلچسبی رکھنے والے بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ امریکہ جیسے مربوط نظام جمہوریت میں منگل کے روز ہونے والے انتخابات کے نتائج میں تاخیر ہو رہی ہے؟

    اس کا جواب یہ ہے کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کی وجہ سے بہت سے امریکی ووٹروں نے انتخابات میں ڈاک کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کو ترجیح دی، اور وہ ریاستیں جہان کانٹے کا مقابلہ ہے، ان میں ڈاک کے ذریعہ موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونا ابھی باقی ہے۔

    ان ریاستوں میں پینسلوانیا اور وسکانسن کی ریاستیں شامل ہیں جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن میں سخت مقابلہ ہے۔

    تین نومبر کو ہونے والے انتخابات سے پہلے چھ کروڑ پچاس لاکھ کے قریب ووٹروں نے اپنا ووٹ ڈاک کے ذریعہ ارسال کیا۔ اس کے علاوہ چار کروڑ کے قریب امریکیوں نے الیکشن کے دن سے پہلے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

    لہذا منگل کی صبح تک ایسے ووٹ لفافوں میں بند پڑے رہے اور انہیں الیکشن کے دن سے پہلے شمار نہیں کیا گیا۔

    امریکی نظام کے تحت ڈاک کے علاوہ لوگ الیکشن کے روز سے پہلے ارلی ووٹنگ کی سہولت استعمال کر کے مخصوص جگہوں پر جا کر بھی ووٹ ڈالتے ہیں۔ لیکن ان ووٹوں کی گنتی میں ایسی کوئی تاخیر نہیں ہوتی۔ لیکن اس بار ان کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔

    This article originally appeared on VOA Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.