Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10204
    admin
    Keymaster

    Photo Credit: NASA/Goddard/University of Arizona

    ڈینور (پاک جرگہ، 21st October, 2020) منگل کے روز ناسا کا خلائی جہاز ایک ایسٹروائڈ (asteroid)، جسے بنوں (Bennu) کا نام دیا گیا ہے، پر اتر گیا، جس نے مٹھی بھر کائناتی ملبے جمع کرنے اور زمین پر واپسی کے لئے اس کی سطح پر لینڈنگ کی۔ جاپان کے بعد امریکہ دوسرا ملک ہے جسے کسی ایسٹروائڈ پر اتر کے نمونے جمع کرنے کا موقع ملا ہے۔

    ایریزونا یونیورسٹی کے سائنسدان Dante Lauretta، جن کی قیادت میں یہ مشن جاری ہے،  نے کہا ، “میں یقین نہیں کرسکتا کہ واقعی ہم نے حقیقت میں وہاں سے نمونے حاصل کرلیے ہیں۔ خلائی جہاز نے وہ سب کچھ اسی طرح کیا جسے اسے کرنا تھا”۔

    ڈینور (Denver) کے قریب زمینی کنٹرولرز کے ذریعہ پہلے سے بھیجے گئے احکامات کے بعد ایسٹروائڈ بنوں کے آس پاس اپنے تنگ مدار سے اترنے میں آسریس ریکس (Osiris-Rex) خلائی جہاز کو ساڑھے چار گھنٹے لگے۔

    خلائی جہاز کے اترنے کے لئے بنوں کی کشش ثقل بہت کم تھی- ایسٹروائڈ صرف 510 میٹر چوڑا ہے۔ نتیجے کے طور پر اس کو اپنے 3.4 میٹر روبوٹ بازو سے یہ کام لینا پڑا اور ایسٹروائڈ سے کم سے کم 60 گرام مٹی یا کائناتی ملبہ اٹھانے میں کامیاب ہو گیا۔

    ایسٹروائڈ بنوں کا زمین سے فاصلہ 320 ملین کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.