• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10802
    Shahid Masood
    Participant

    صدر ٹرمپ نے کرسمس سے پہلے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا فیصلہ روکدیا ہے ۔ 

    قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر ملر کے مطابق افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد چار ہزار 500 سے کم کر کے دو ہزار 500 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد 3ہزار سے کم کر کے 2ہزار 500تک لائی جائے گی۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجیوں کی تعداد 15جنوری 2021تک افغانستان میں 2500 کر دی جائے گی اور اتنی ہی تعداد عراق میں بھی رہے گی۔

    کرسٹوفر ملر نے کہا کہ کہ امریکا نے خطے میں زیادہ تر مرکزی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔ داعش کو بھی شکست دے دی گئی ہے۔ یہ وقت ہے کہ امریکی فوجیوں کو گھر واپس لایا جائے۔ انہوں نے کہا”یہ ہمارے طے شدہ منصوبوں اور اسٹرٹیجک مقاصد کا حصہ ہیں، جسے امریکی عوام کی تائید حاصل ہے اور یہ امریکی پالیسی یا مقاصد میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہے۔”

    قبل ازیں منگل کو نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے افغانستان سے جلد بازی میں فوجیوں کی واپسی کے تئیں متنبہ کرتے ہوئے کہا”اتنی جلد بازی میں یا غیر مربو ط انداز میں انخلاء کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑسکتی ہے۔”

    اسٹولٹن برگ نے مزید کہا کہ ”افغانستان کے عالمی دہشت گردوں کا ایک بار پھر مرکز بننے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ یہ دہشت گرد ہمارے ملکوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور انتظام کریں گے اور داعش افغانستان میں دہشت کی وہ خلافت دوبارہ قائم کر سکتی ہے جس سے وہ شام اور عراق میں محروم ہوگئی ہے۔”

    نیٹو کے 30 ممالک کے تقریباً 12000 افواج اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔ یہ فوجی افغانستان کی قومی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور مدد کا کام کرتے ہیں۔ اس میں امریکی فوجیوں کی تعداد نصف ہے لیکن نیٹو کے اتحادی نقل و حمل، لوجیسٹکس، فضائی ٹرانسپورٹ اور دوسرے کاموں میں مدد کے لیے بڑی حد تک امریکی فوجیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی مکمل واپسی کی صورت میں افغانستان میں نیٹو کا آپریشن تقریباً ختم ہوکر رہ جائے گا۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.