Jirga South Asia

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9798
    Syed Muhammad
    Moderator

    اترپردیش کے ہاتھرس میں اجتماعی زیادتی کے بعد دلت بچی کی ہلاکت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    ادھر نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ 2019 کے جاری کردہ اس اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 9 ریاستوں میں دلتوں کے خلاف 84 فیصد جرائم ہوئے۔ ان ریاستوں میں ملک میں کل درج فہرست ذات کی آبادی کا 54 فیصد حصہ ہے۔ دلتوں کے خلاف جرائم کی سزا کے معاملے میں یوپی سرفہرست ہے جبکہ دوسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے۔

    بصیرت آن لائن کے مطابق  راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار اور گجرات میں دلتوں پر مظالم کی سب سے زیادہ تعداد (دلتوں کی ایک لاکھ آبادی میں جرائم کی تعداد) ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ اتر پردیش، کیرالہ، اڑیسہ اور آندھرا پردیش میں دلتوں کے سب سے زیادہ جرائم ہیں۔ ان ریاستوں میں دلتوں پر مظالم کے واقعات قومی اوسط سے زیادہ ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق، ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ قانون کے تحت درج مقدمے میں سزا کی شرح قومی سطح پر محض 32 فیصد ہے۔ وہیں زیر غور معاملات کی تعداد 94فیصدتک ہے۔

    2019 میں چھوٹی ذاتوں کے خلاف تقریبا 46000 جرائم ہوئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے 9 ریاستوں میں دلتوں پر مظالم کی اوسط قومی اوسط سے زیادہ ہے اور یہاں 38400 کے قریب واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    اترپردیش میں 2019 میں دلتوں پر مظالم کے 11829 واقعات ریکارڈ ہوئے جبکہ راجستھان میں دلتوں پر مظالم کے 6794 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہاں ہر لاکھ دلت آبادی میں 56 جرائم ہوئے ہیں۔

     

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.