Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #18276
    Shaista Khan
    Participant

    پاکستان ميں مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی مقبوليت ميں ضرور کمی ہوسکتی ہے ليکن سياسی تجزيہ کار کہتے ہيں کہ اوورسيز پاکستانيوں ميں عمران خان اب بھی مقبول ہيں اس لیے بدھ کی قانون سازی سے اوورسيز پاکستانيوں کو جوووٹ کا حق ملا ہے وہ 2023ء کے اليکشن کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔

    پاکستان ميں رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد تقريباً 12 کروڑ ہے اور وہ اوورسيز پاکستانی جو اب ووٹرز بن سکتے ہيں کی تعداد 80 لاکھ ہے جو پاکستان کے کل ووٹرز کا 7 سے 8 فيصد بنتا ہے۔

    اوورسيز ووٹرز کا زيادہ تر تعلق پاکستان کے 20 اضلاع سے ہے جن ميں سب سے بڑی تعداد کا تعلق لاہور سے ہے جہاں قومی اسمبلی کے 14 حلقوں ميں 7 لاکھ سے زائد اوورسيز ووٹرز موجود ہيں يعنی اوسطاً ہر حلقے سے تقريبا 50 ہزار ووٹرز اوورسيز پاکستانی بنتے ہيں۔

    خیال رہے کہ 2018ء کے اليکشن کے رزلٹ کو ديکھ ليں تو تحريک انصاف ن ليگ سے 8 نشستوں پر 50 ہزار سے کم مارجن سے ہاری تھی جس سے يہ واضح ہوتا ہے کہ اوورسيز پاکستانيوں کے ووٹ اليکشن ميں فيصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہيں۔

    لاہور کے بعد سيالکوٹ کے 5 حلقوں ميں 4 لاکھ 70 ہزار اور راولپنڈی کی 7 نشستوں کے 7 لاکھ 50 ہزار ووٹر بيرون ممالک ميں مقيم ہيں۔

    کراچی سينٹرل کے چار حلقوں کے 3 لاکھ 46 پزار 960 جبکہ  کراچی ايسٹ کے چار حلقوں کے دو لاکھ 21 ہزار 312 ووٹ سمندر پار پاکستانيوں کے ہيں۔ سوات کی 3 نشستوں کے 2 لاکھ 25 ہزار 764 ووٹر بھی پاکستان سے باہر ہيں۔ اسلام آباد ميں قومی اسمبلی کی صرف 2 نشستيں ہيں ليکن اوورسيز 2 لاکھ سے زائد ہيں۔

    سمندر پار پاکستانيوں ميں تحریک انصاف کی مقبوليت سب سے زيادہ ہے جبکہ بيرون ملک فعال کارکنوں ميں بھی پی آٹی آئی سب سے آگے ہے اگر سمندر پار پاکستانيوں کا ٹرن آؤٹ اچھا رہے تو پاکستان تحريک انصاف کو واضح فائدہ ملے گا۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.