Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9708
    admin
    Keymaster

    جنوبی قفقاز کے خطے میں واقع آذربائیجان اور آرمینیا ایک متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ پر قبضے کے لیے ایک دوسرے سے کئی سالوں سے برسرپیکار ہیں۔

    آذربائیجان اور آرمینیا دونوں سابقہ سویت یونین کی ریاستیں ہیں۔ دونوں ممالک سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد خودمختار ریاستوں کی شکل میں دنیا کے نقشے پر ابھرے۔

    آذربائیجان کی آبادی زیادہ تر مسلم ترکوں پر مشتمل جبکہ ارمینیا ایک قدیم عیسائی خطہ ہے۔

    دونوں حریفوں کے درمیان علاقے ناگورنو کاراباخ کا تنازع سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے بدترین تنازعات میں سے ایک ہے۔ اسی تنازع کے باعث 1990 کی ایک جنگ میں نسلی آرمینیائی علیحدگی پسندوں نے آزربائیجان کے اس خطے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس جنگ میں 30 ہزار افراد مارے گئے تھے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔

    ناگورنو کاراباخ آذربائیجان کے اندر واقع ہے جہاں آرمینی عیسائی اور مسلمان ترک آباد ہیں۔ عالمی برادری اس خطے کو آذربائیجان کا حصہ مانتی ہے مگر آرمینیا کی فوج نے 1990 میں مقامی عیسائی آبادی کے ساتھ ملکر اس پر قبضہ کرلیا۔ اس جنگ کے دوران مقامی ترک مسلمانوں کی خاصی تعداد ہلاک اور ایک بڑی تعداد نے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی کی۔

    آرمینیا نے اس جنگ کے دوران ناگورنو کاراباخ کے ساتھ متعدد دیگر گاؤں اور دیہاتوں پر بھی قبضہ کیا۔ ارمینیا کو روس کی حمایت حاصل ہے جبکہ ترکی روز اول سے آذربائیجان کا حامی رہا ہے۔

    روس کی جانب سے ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک 1994 میں سیزفائر پر آمادہ ہوگئے اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا گیا مگر اس معاہدے کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ رواں سال جولائی میں بھی دونوں ممالک کے مابین جھڑپوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

    This article originally appeared on Samaa TV

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.