Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #15140
    Zaid
    Moderator

    اسلام آباد — پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں حزبِ اختلاف کی عدم موجودگی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے قیام کا بل منظور کر لیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی اس قانون کو پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ ایوان بالا سے منظوری کے بعد سی پیک اتھارٹی کو باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے۔

    اس سے قبل سی پیک اتھارٹی صدارتی آرڈنینس کے ذریعے کام کر رہی تھی جس کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ ہیں۔

    سی پیک اتھارٹی کو خود مختار ادارے کا درجہ دینے کی قانون سازی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سی پیک منصوبوں میں سست روی پر تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

    حکومت کی جانب سے اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے نگران ادارے کے طور پر سی پیک اتھارٹی کے قیام کا مقصد منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔

    اس قانون سازی کے ذریعے وزارتِ منصوبہ بندی سے سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کے ادارے کے طور پر کردار واپس لیتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کو راہداری منصوبوں کے حوالے سے مکمل خود مختار ادارے کا درجہ دیا گیا ہے۔

    اس قانون سازی کے ذریعے سی پیک اتھارٹی کو انتظامی اور مالی خود مختاری کے علاوہ کوتاہی کے مرتکب سرکاری حکام کے خلاف قانونی کارروائی کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

    پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کے چیئرمین شیر علی ارباب کہتے ہیں کہ حکومت چاہتی ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو بروقت تکمیل کی جانب لے جایا جائے اس وجہ سے اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

    وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کو سینیٹ سے منظوری کے بعد اب باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے۔

    شیر علی ارباب کہتے ہیں کہ یہ اتھارٹی سی پیک منصوبوں کی نگران اور عمل درآمد کی ذمہ دار ہو گی۔ جو کہ بنیادی طور پر رابطہ کار باڈی ہے۔ نہ کہ نئے منصوبوں کو جنم دے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں بھی اس اتھارٹی کے قیام پر دو رائے تھیں بعض اراکین کا کہنا تھا کہ یہ اعلیٰ اختیاراتی باڈی ہے جس سے ابہام اور کام میں مسائل پیدا ہوں گے۔

    تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اکثریتی اراکین سمجھتے ہیں کہ سی پیک اتھارٹی رابطہ کاری کے ذریعے ان منصوبوں کو تیزی سے تکمیل کی جانب لے کر جائے گی۔

    اکتوبر 2019 میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے سی پیک اتھارٹی کے قیام پر اپوزیشن جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اب سینیٹ سے اس بل کی جلد بازی میں منظوری کو سی پیک منصوبوں کو متنازع بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

    وزارتِ منصوبہ بندی کے سابق وزیر اور حزبِ اختلاف کے رہنما احسن اقبال کہتے ہیں کہ سی پیک اتھارٹی کا بل سینیٹ سے غیر قانونی طور پر قواعد کو نظر انداز کرکے زبردستی منظور کرایا گیا ہے۔

    وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ بل ایجنڈے پر لائے بغیر اچانک اس وقت منظور کرایا گیا جب اپوزیشن ارکان ایوان سے بائیکاٹ کیے ہوئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف بل منظور کرنے کے لیے حکومت کے اپنائے گئے غیر پارلیمانی انداز پر احتجاج کر رہی ہے اور اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ کو اپنا مؤقف تحریری صورت میں دیا جائے گا۔

    احسن اقبال کہتے ہیں کہ راہداری منصوبے گزشتہ تین سال سے سست روی کا شکار ہیں کیوں کہ سی پیک دو وزارتوں اور اتھارٹی کے درمیان معلق ہو کر رہ گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے بغیر اتھارٹی کے سی پیک کے 32 ارب ڈالر کے منصوبے لائی۔ البتہ موجودہ حکومت اتھارٹی کے قیام کے باوجود کوئی نیا منصوبہ نہیں لاسکی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اتھارٹی کا قیام غیر ضروری ہے اور اس قسم کی قانون سازی کو غیر مناسب انداز میں منظور کرانا سی پیک اتھارٹی کو متنازع بنانے کے مترادف ہے۔

    خیال رہے کہ 2014 میں پاکستان اور چین کے درمیان 46 ارب ڈالر کے منصوبوں کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے جن میں زیادہ تر توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبے تھے۔

    This article originally appeared on VOA Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.