• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #13344
    Shahid Masood
    Participant

    بحیرہ احمر میں شدید طوفان کے نتیجے میں نہر سویز میں ایک بڑا مال بردار بحری جہاز پھنس گیا جس سے سمندری ٹریفک معطل ہوگئی۔

    مصر کے سمندری اہل کار اور آٹھ امدادی کشتیاں سمندری راستے کو کھولنے کیلئے کوششوں میں مصروف ہیں۔

    مصری حکام کے مطابق پانامہ کاپرچم بردار دولاکھ چوبیس ہزار ٹن وزنی جہاز ہالینڈ کی بندر گاہ روٹر ڈم جا رہا تھا جب وہ راستے میں پھنس گیا جس سے دنیا کی مصروف ترین سمندری راہداری بند ہوگئی۔

    منگل کے روز چین سے نیدرلینڈز کے شہر راٹرڈیم جانے والا یہ چار سو میٹر لمبا بحری جہاز تیز ہواؤں کے باعث توازن اور سمت برقرار نہ رکھ سکا جو نہر کو بلاک کرنے کا سبب بنا۔

    تقریباً 150 بحری جہاز اس انتہائی اہم گزرگاہ میں موجود اس وقت قطار میں لگے اس بحری جہاز کے نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اس مال بردار جہاز کے مالک شوئی کسین کائیشا کا کہنا ہے کہ ایورگون کے 25 رکنی عملے کے تمام افراد کا تعلق انڈیا سے ہے اور وہ سب محفوظ ہیں اور اب تک تیل لیک ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

    بی بی سی کے مطابق مصر کی نہر سوئز کو گذشتہ منگل سے بلاک کرنے والے دیو ہیکل مال بردار بحری جہاز کے جاپانی مالک شوئی کسین کائیشا نے اس کے باعث عالمی تجارت میں پیدا ہونے والے خلل پر معذرت کر لی ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سوئز کنال میں کوئی بحری جہاز پھنسا ہو۔ 2017 میں ایک جاپانی جہاز وہاں پھنس گیا تھا تاہم اس چند گھنٹوں میں نکال لیا گیا تھا۔

    ڈیڑھ سو سال قبل بنائی جانے والی سوئز کنال 193 کلو میٹر طویل اور اس کی چوڑائی 205 میٹر ہے اور کہا جاتا ہے کہ عالمی بحری تجارت کا 12 فیصد حصہ اس نہر سے گزرتا ہے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.