Jirga Sports

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #17897
    Syed Muhammad
    Moderator

    بيٹے کے خواب کی تکمیل کے لیے باپ نے تعبير تک ہر قدم پر ساتھ ديا اور وہ دن آگيا جب اُن آنکھوں ميں خوشی کے آنسو امڈ آئے۔

    دوہزار سات کی بات ہے جب وہ ابھی چھوٹا سا لڑکا تھا باپ کے ساتھ موٹرسائيکل پرکرکٹ سيکھنے گراؤنڈ جایا کرتا تھا، وہ کھيلتا رہا اور باپ ہرقدم پرساتھ ديتا رہا۔

    یہ کسی اور کی نہیں بلکہ باربر اعظم کی بات ہے جو پندرہ سال ميں پاکستان کی قومی کرکٹ ٹيم تک پہنچ گئے اور نہ صرف بہترين بيٹسمين بلکہ کپتان بھی بن گئے۔

    جس باپ نے اپنے بيٹے کی آنکھوں کے خواب کی برسوں پرورش کی تعبيرملنے پرروپڑا، جن آنکھوں ميں خواب پلے تھے اُن آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔

    مگر يہ خوشی صرف باپ بيٹے کی نہ تھی اُس ماں کی بھی تھی کہ جس کی دعائيں ساتھ ساتھ سفر ميں رہيں اور يہ خوشی ساری قوم کی خوشی بھی تھی۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.