Jirga South Asia

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9744
    Syed Muhammad
    Moderator

    لکھنوکی خصوصی عدالت نےبابری مسجد کی شہادت سےمتعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایل کےایڈوانی،مرلی منوہرجوشی اورامابھارتی سمیت32ملزمان کوبری کردیاگیا۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی شہر لکھنؤ میں قائم خصوصی عدالت کے جج سریندر کمار یادو نے 1992ء میں شہید کی گئی بابری مسجد کے انہدام کیس کا فیصلہ پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے سنایا۔

    کیس کے فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ بابری مسجدگرانے کا واقعہ اچانک ہوا، اس کے لیے پہلے سے کسی منصوبہ بندی کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔

    تاہم ناکافی شواہد کی بنا پر کیس میں نامزد ایل کےایڈوانی، مرلی منوہرجوشی،اما بھارتی سمیت دیگر بی جے پی رہنما بابری مسجد شہادت کیس سے بری کر دیے گئے۔ کیس میں 49 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 17 کی موت واقعے ہوچکی ہے جبکہ 32 ملزمان زندہ ہیں ۔

    یاد رہے کہ عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت 16 ستمبر کو مکمل ہوئی تھی جس کے بعد 30 ستمبر 2020 ءکو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی ۔

    خیال رہے کہ ہندو انتہا پسندوں نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک مندر تھا۔ ان 27 برسوں میں بابری مسجد شہید کیے جانے کے بعد بھارت کے مسلمانوں نے بھارتی تنظیموں کی جانب سے بدترین مذہبی انتہا پسندی کا سامنا کیا ہے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.