• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12149
    Shahid Masood
    Participant

    پاک جرگہ (19 جنوری 2021) ہندوستانی میڈیا نے چین کو ایک “متنازعہ علاقے” میں ایک گاؤں کی تعمیر پر یہ کہتے ہوئے کہ یہ تعمیر ہندوستانی حدود میں ہو رہی ہے، واویلا شروع کردیا کہ اس کی وجہ سے نئی دہلی کو تشویش ہے۔ دوسری طرف چینی ماہرین کا خیال ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صرف چین مخالف جذبات کو ابھارنا ہے، کیونکہ یہ تعمیر چینی علاقے میں ہوئی ہے اور یہ سرحدی باشندوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔

    ہندوستانی میڈیا این ڈی ٹی وی نے پیر کو خبر دی کہ چین نے “اروناچل پردیش” میں 101 مکانات پر مشتمل ایک گاؤں تعمیر کیا جسے چین جنوبی تبت یا زنگنان (Zangnan) کہتا ہے۔ یکم نومبر سن 2020 کو سیٹلائٹ کی تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے این ڈی ٹی وی نے یہ رپورٹ دی کہ یہ گاؤں دریائے سوسری چو کے کنارے واقع ہے ، جو “متنازعہ علاقے” میں واقع ہے۔

    ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے، لیکن چینی حکومت نے نام نہاد “اروناچل پردیش” کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ چین اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی گذشتہ سال گیلوان وادی میں تصادم کے بعد سے پیدا ہوئی ہے۔ نومبر 2020 میں، دونوں فریقوں نے اعلی سطح کے مزاکرات کے بعد فوجیں پیچھے ہٹانے اور بفر زون قائم کرنے کے معاہدے پر عمل شروع کیا تھا۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.