Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12502
    Shahid Masood
    Participant

    نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ میں پاکستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کے الفاظ گونج اُٹھے۔

    بھارتی راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں بھارتی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے ممبر ڈاکٹر منوج جھا نے کئی دنوں سے مظاہرے کرنے والے کسانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آواز اُٹھائی۔انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام  انقلابی شاعر حبیب جالب کی مشہور نظم “ایسے دستور کو صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا” پر کیا ۔

    واضح رہےکہ بھارت میں زرعی اصلاحات کے معاملے پر کسانوں کا احتجاج 5 ماہ سے جاری ہے اور ہزاروں کسانوں نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں دھرنے دے رکھے ہیں جب کہ 26 جنوری کے روز کسانوں اور پولیس کے درمیان شدید تصادم بھی ہوا تھا، کسانوں کا دعویٰ ہے کہ 26 جنوری سے اب تک 100 سے زیادہ مظاہرین لاپتہ ہیں۔

    یاد رہے کہ حبیب جالب نے جمہوریت کی آزادی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ شاعر نے مشہور زمانہ نظم ’’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا‘‘ کہہ کر وقت کے جابروں کو للکارا اور کبھی حاکم وقت کے سامنے نہیں جھکے۔

    معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف قلم سے لڑنے والے حبیب جالب کی شاعری آج بھی لوگوں کو حق بات پر ڈٹ جانے کا سبق دیتی ہے۔

    حبیب جالب کی یہ شہرہ آفاق نظم “دستور” قارئین کی نذر…

    دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

    چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

    وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

    ایسے دستور کو صبح بے نور کو

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

    میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

    کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

    ظلم کی بات کو جہل کی رات کو

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو

    جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو

    چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو

    اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

    اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں

    چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں

    تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.