Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11483
    Syed Muhammad
    Moderator

    بھارت میں مودی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی کسان تنظیموں کا دارالحکومت نئی دہلی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں احتجاج، دھرنا اور بھوک ہڑتال جاری ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی کسان تنظیموں کے نمائندوں نے احتجاج میں شدت لاتے ہوئے اس کا دائرہ مزید علاقوں تک بڑھادیا ہے۔ منگل کو کسانوں کی تحریک کے27 ویں روز بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

    چینی فوج مقبوضہ لداخ کے گاؤں میں گھس آئی، بھارت میں ہلچل

    دریں اثنابھارتی حکومت نے کسان تنظیموں کو ایک بار پھر بات چیت کی دعوت دی ہے۔ بھارتی وزارت زراعت کی طرف سے 40 کسان تنظیموں کو بھیجے گئے ایک خط میں کسان تنظیموں کو زرعی قوانین کے بارے میں مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ حکومت کی تجویز پر جلد تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

    ادھر بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر آئندہ ایک دو دن میں کسان تنظیموں سے بات کرسکتے ہیں۔

    نیپالی صدر نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی، عام انتخابات اگلے برس ہونگے

    بھارت کی کسان تنظیمیں حکومت سے زرعی اصلاحات کے تین قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ بھارتی کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین اب تک کئی بار مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک اس کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں۔ ادھر کسانوں کی تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ وہ احتجاج کو تیز کریں گے۔

    بھارتی کسانوں نے دہلی کو ریاست اترپردیش سے ملانے والی شاہراہ پر غازی آباد اور کئی دیگر جگہوں پر دھرنا دے رکھا ہے جبکہ انتظامیہ نے کسانوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے کئی مقامات پر شاہراہوں کو بند کردیا ہے۔ بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ کسانوں کے مطالبات جائز ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کسانوں نے جے پور۔ دہلی شاہراہ پر بھی احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ ادھر کسانوں کی نمائندہ تنظیموں نے ابھی تک بھارتی حکومت کی مذاکراتی پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    پی آئی اے کا سعودی عرب کے مختلف شہروں کیلئے پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان

    بھارتی حکومت اور کسانوں کی نمائندہ تنظیموں کے درمیان اب تک مذاکرات کے 6 دور ہوچکے ہیں جو ناکامی کا شکار ہوئے۔ بھارت کی ریاستوں اترپردیش، پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور دیگر ریاستوں کے ہزاروں کسان دہلی کے باہر مختلف شاہراہوں پر سخت سردی کے باوجود کئی ہفتوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

    کسان کے دھرنا سے دہلی اور ملک کی کئی ریاستوں میں معمول کی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں۔ زرعی اصلاحات قوانین کے خلاف کسان تنظیموں نے تحریک تیز کردی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے۔

    بھارتی پارلیمنٹ نے حال ہی میں زراعت کے متعلق تین نئے قانون پاس کئے تھے، ملک بھر میں کسان تنظیمیں ان قوانین کی سخت مخالفت کررہی ہیں۔ کسانوں کا یہ مطالبہ ہے کہ مودی حکومت نئے زرعی قانون کو واپس لے بصورت دیگر احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.