Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11677
    Aliya Sultan
    Participant

    نئی دہلی — بھارت کی ریاست اتر پردیش میں مبینہ ‘لو جہاد’ مخالف قانون کی منظوری کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔ اس دوران اس قانون کے تحت پولیس نے 16 مقدمات درج کیے۔ جب کہ 86 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی اور 54 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    وائس آف امریکہ کے مطابق اس قانون کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ اسے ابھی مزید 31 ملزمان کو گرفتار کرنا ہے۔




    رپورٹس کے مطابق 15 مقدمات ہندو لڑکیوں سے متعلق ہیں۔ صرف دو مقدمات میں لڑکیوں نے رپورٹ درج کرائی ہے۔ البتہ باقی تمام معاملوں میں لڑکیوں کے والدین نے مقدمات درج کرائے ہیں۔ سب سے زیادہ 26 کیسز ضلع ایٹہ میں درج کیے گئے۔

    برطانوی کرونا 15ممالک میں پہنچ گیا

    پولیس کے مطابق وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے جبری تبدیلیٔ مذہب کے خلاف سخت اقدمات کی ہدایت کے پیشِ نظر مذکورہ کارروائیاں کی گئیں۔

    ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آٹھ مقدمات میں لڑکوں اور لڑکیوں نے ایک دوسرے کا دوست بتایا یا یہ کہا کہ ان میں آپس میں تعلق ہے۔ ایک جوڑے نے دعویٰ کیا کہ وہ شادی شدہ ہے۔ ایک معاملہ اعظم گڑھ میں مبینہ طور پر جبری عیسائی بنانے کا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے تین افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔




    بجنور، شاہ جہاں پور، بریلی، مظفر نگر، سیتا پور، ہردوئی، قنوج، اعظم گڑھ اور مراد آباد اضلاع میں بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ مذکورہ قانون کے تحت شادی کے لیے جبری مذہب تبدیل کرانے یا اپنا مذہب پوشیدہ رکھ کر شادی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر کم از کم 10 سال قید اور 50 ہزار روپے کا جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

    دہلی کی شاہراہوں پر ہزاروں کسانوں کا دھرنا

    سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکور نے کہا ہے کہ اس قانون میں بہت خامیاں ہیں۔ یہ عدالت میں نہیں ٹھہر سکتا۔ اسے خارج کر دیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اسد علوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس سے قبل بھی ‘لو جہاد’ سے متعلق متعدد معاملات عدالت عظمیٰ میں آئے اور سب میں عدالت نے کہا کہ دو بالغ شادی کرنا چاہیں تو اپنی مرضی سے کسی بھی مذہب کے ماننے والے اور ذات برادری کے افراد کے ساتھ شادی کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔

    ان کے بقول یہ قانون سپریم کورٹ میں کالعدم کر دیا جائے گا۔

    More on this story from VOA Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.