Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11149
    Syed Muhammad
    Moderator

    نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں بہت سے کسان ملک کے غریب ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ستمبر میں مودی سرکار نے شعبہ زراعت کے متعلق نئے قوانین بنائے ہیں جس پر بھارت کے کسان سراپا احتجاج ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق مودی سرکار کا دعویٰ ہے کہ نئے قوانین کسانوں کو ’مڈل مین‘ کے جبر اور من مانیوں سے نجات دلائیں گے لیکن کسانوں کو خطرہ ہے کہ ان قوانین کی بدولت وہ بڑی کارپوریشنز کے نرغے میں آ جائیں گے۔

    نئی دہلی، زرعی اصلاحات کیخلاف کسانوں کے مظاہروں نے شدت اختیار کر لی

    رپورٹ کے مطابق کسانوں کا کہنا ہے کہ ان نئے قوانین سے انہیں جتنا کچھ حاصل ہو گا، اس سے زیادہ وہ کھو دیں گے۔ ان قوانین سے سب سے زیادہ فائدہ زرعی کارپوریشنز کو ہوگا۔ یہ وہ خدشات ہیں جن کی وجہ سے کسان بھارت میں سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور کئی سالوں بعد ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    اینڈرائیڈ کی گیارہ اپیلیکیشنز خطرناک قرار

    واضح رہے کہ نئے قوانین میں پہلی بار بھارتی کسانوں کو حکومتی منڈیوں کی بجائے براہ راست نجی خریداروں کو اجناس فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اب پہلی بار بھارتی کسان نجی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کر سکیں گے اور ایک سے دوسری ریاست میں اپنی اجناس فروخت کر سکیں گے۔ان قوانین میں تاجروں کو اشیائے خورونوش ذخیرہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے، اور اس معاملے پر بھی کسانوں اور عام شہریوں کو شدید تحفظات لاحق ہیں کیونکہ اس طرح تاجر من مانی قیمتوں پر اشیاءفروخت کریں گے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.