Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11692
    Syed Muhammad
    Moderator

    نئی دہلی :فاشسٹ بی جے پی حکومت کی مسلم دشمن قانون سازی پرسینیئر بھارتی بیوروکریٹس نےاترپردیش حکومت کو  خط لکھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اُتر پردیش میں تبدیلی مذہب کے حوالے سے قانون سازی پر 104 سینیئر سابق بیورکریٹس نے بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو خط لکھا ہے۔

    بھارت: لو جہاد مخالف قانون، ایک ماہ میں 16 ایف آئی آر، 54 افراد گرفتار

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تبدیلی مذہب سے متعلق قانون سازی کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے جاری کردہ آرڈیننس کو فوری واپس لیا جائے۔




    سابق بیورکریٹس نے خط میں لکھا کہ اس قانون سازی کے باعث اُتر پردیش نفرت انگیزی اور معاشرتی امتیازی سلوک کا مرکز بن چکا ہے۔اُتر پردیش میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور قانون کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کے متعدد واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

    دہلی کی شاہراہوں پر ہزاروں کسانوں کا دھرنا

    واضح رہے کہ بھارت میں اس وقت بی جے پی کی حکومت کی وجہ سے مسلمانوں ، سکھوں سمیت ہر اقلیت پریشان ہے ، مسلمانوں کے خلاف دہلی میں قتل عام کے بعد  اب سکھوں  کے خلاف تین کسان بلوں نے سکھ کسانوں کو پریشان کیا ہوا ہے۔ 




    اس وقت دہلی سنگھو بارڈر پر لاکھوں کی تعداد میں کسان اپنے حق کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں جبکہ بھارتی ریاستوں ہریانہ ، پنجاب ، اترپردیش سمیت کئی دیگر ریاستوں میں ایم ایس پی  کے خلاف کسانوں کی تحریک چل رہی ہے۔ 

    نریندر مودی سرکار نے کسانوں  کے حوالے تین کسا ن دشمن بل بلکل  شہریت ایکٹ کی طرح پاس کیے ہیں جس میں کسان تنظیموں میں سے کسی سے بھی رائے نہیں لی گئی۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.