Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #13875
    Shahid Masood
    Participant

    اسلام آباد — سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت براہِ راست دکھانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے لیکن سپریم کورٹ معلومات تک کس انداز میں رسائی دے سکتی ہے یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ اُنہوں نے یہ سماعت براہِ راست دکھانے کے لیے عدالت عظمی میں ایک الگ درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے 27 روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    منگل کو جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق چھ ججز نے درخواست مسترد جب کہ چار ججز نے سماعت براہِ راست دکھانے کے حق میں فیصلہ دیا۔

    جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں اس 10 رکنی بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس امین الدین خان شامل تھے۔

    فیصلہ سنائے جانے کے بعد کمرۂ عدالت میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں فیصلہ تحریر کرنے اور اختلاف کرنے والے ججز کے نام جاننا چاہتا ہوں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیصلہ پڑھیں گے تو آپ کو ناموں کا اندازہ ہو جائے گا۔

    اس کیس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے چار ججز نے براہ راست نشریات کی استدعا منظور کی تھی۔ ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور ملک، جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس منصور علی شاہ شامل تھے۔

    اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ یہ عوامی مفاد کا کیس ہے، سپریم کورٹ ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی کی آڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پر بھی ڈالی جائے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے براہ راست نشریات دکھانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ عوام کا آئینی حق ہے کہ عوامی مفاد کے کیسز کی نشریات دیکھ سکیں لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو ریلیف مانگ رہے ہیں وہ ایک جج کے اٹھائے گئے حلف کے منافی ہو گا۔

    دورانِ سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ 27 دن کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا گیا ہے۔ تفصیلی وجوہات اور فیصلہ کب جاری کیا جائے گا؟ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دنوں کی گنتی نہ کریں۔ فیصلہ سنانا ججز کی صوابدید ہے، مختصر فیصلے کی کاپی آپ کو مل جائے گی، تفصیلی وجوہات جاننا آپ کا حق ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے براہ راست کوریج دکھانے کی درخواست مسترد کرنے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ کو ہدایت کی کہ وہ نظرِ ثانی درخواستوں پر دلائل دیں جس پر فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار نہیں ہوں۔

    جسٹس قاضی امین نے سوال کیا کہ کیا آپ تفصیلی فیصلے کے بعد نظرِ ثانی پر دلائل دیں گے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میرا انحصار عدالت پر ہے، اگر کہیں گے تو دلائل شروع کر دوں گا۔

    کمرۂ عدالت میں موجود جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومتی عہدے دار خاتون نے توہینِ عدالت کی جب کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی عدالت کو بقول ان کے اسکینڈلائیز کیا لیکن کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ سرینا عیسیٰ نے یاد دلایا کہ یوسف رضا گیلانی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو توہینِ عدالت کے تحت سزائیں دی گئی تھیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی عدالت کو توجہ دلائی کہ توہینِ عدالت کی درخواستیں کیوں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں، ان کے بقول یہ عدالت کی عزت و تکریم کا معاملہ ہے۔

    اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار ہو جائیں، توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقرر ہو جائیں گی۔

    جسٹس عمر عطا بندیال کی سر براہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی جہاں کل سے جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی اپیل پر دلائل دیں گے۔ ان کے وکیل منیر اے ملک علالت کے باعث اب تک عدالت میں پیش نہیں ہو سکے ہیں۔

    More on this story from VOA Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.