• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10557
    Shahid Masood
    Participant

    کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق اپنے بیان کے بعد پہلی مرتبہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

    فون کال کے دوران ٹروڈو نے کینیڈا کی جانب سے ’فرانس کے لوگوں‘ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ماہ پیرس کے مضافات میں پیغمبرِ اسلام کے متنازع خاکے اپنے طلبا کو دکھانے پر ایک استاد کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔

    کینیڈا کے وزیرِاعظم کی جانب سے گذشتہ ہفتے آزادی اظہارِ رائے سے متعلق بیان کو کینیڈا اور فرانس میں تنقید کا سامنا رہا۔

    دوسری جانب فرانسیسی صدر کی جانب سے متنازع خاکوں کا دفاع کرنے پر متعدد مسلمان اکثریتی ممالک میں مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے اور چند ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی بات بھی کی گئی۔

    جسٹن ٹروڈو نے گذشتہ ہفتے کیا بیان دیا تھا؟

    گذشتہ ہفتے ٹروڈو کی جانب سے ایک بیان میں فرانس کے شہیر نیس کے ایک گرجا گھر میں ہونے والے چاقو بردار حملے کی مذمت کی گئی تھی جو تقریباً ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے دوران ملک میں اپنی نوعیت کا تیسرا اسلام پسند حملہ ہے۔

    تاہم انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا پیغمبرِ اسلام کا خاکہ دکھانے کا حق ہونا چاہیے انھوں نے کہا تھا کہ ’اظہارِ رائے کی آزادی کی حدود متعین‘ ہیں۔

    فرانس کے جریدے چارلی ایبڈو میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ‘ہم ہمیشہ آزادی اظہار کا دفاع کریں گے۔’

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ آزادی اظہار بغیر حدود کے نہیں ہو سکتی۔ ‘یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں سے عزت سے پیش آئیں اور معاشرے اور اس دنیا میں موجود دوسرے لوگوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزادی نہ کریں۔’

    جسٹن ٹروڈو نے اس سلسلے میں مثال سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینیما ہال جو فلم بینوں سے بھرا ہوا ہو وہاں کسی شخص کو چیخ کر آگ آگ کہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    میکخواں کا ردِعمل

    منگل کے روز ایمانوئل میکخواں کی جانب سے فون پر کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے وزیرِ اعلیٰ فرنکوئس لیگال سے بات کی اور انھیں حملوں کے بعد یکجہتی کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    لیگال نے کہا کہ میں نے فرانس میں پیش آنے والے واقعات کی بغیر کسی تحفظات کے مذمت کی تھی۔

    تاہم اس روز میکخواں کی جانب سے ٹروڈو کو کال نہیں کی گئی تھی اور اسے فرانسیسی صدر کی جانب سے اپنے کینیڈیئن ہم منصب کو نظرانداز کرنا سمجھا گیا تھا کیونکہ دونوں کو ایک جیسے سیاسی خیالات کا مالک سمجھا جاتا ہے۔

    تام ٹروڈو کی جانب سے اپنے بیان کی وضاحت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ’یہ ضروری ہے کہ ہم آزادی اظہارِ کا دفاع کریں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے فنکار ہمارے نظریات کو چیلنج کرتے ہیں اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم آزادیِ اظہار کا دفاع جاری رکھیں گے۔‘

    آج کی کال کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟

    ٹروڈو اور میکخواں نے جمعرات کے روز فون پر بات کی جس سے ظاہر ہوا کہ دونوں سربراہان اس بیان کے تناظر میں پیدا ہونے والے تناؤ میں کمی لانا چاہتے ہیں۔

    کینیڈا کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے شائع ہونے والے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اظہارِ رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا اور دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی مذمت بھی کی۔

    This article originally appeared on BBC Urdu

     

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.