• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #13591
    Shahid Masood
    Participant

    دو سپر پاوروں کی رواں ہفتے امریکہ میں اناپولیس اور چین میں زیامین شہر میں دو اعلٰی سطح کی میٹنگوں میں جنوبی کوریا کی سفارتکاری کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن اپنے طویل مدتی حفاظتی و دفاعی اتحاد کی اہمیت پر زور دے کر سیئول پر حمایت کا مظاہرہ کرنے پر دباؤ ڈال رہا ہے جبکہ بیجنگ شمالی کوریا پر اپنا اثر و رسوخ ہونے کی بنا پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر سوہ ہون نے شمالی کوریا اور بحر الکاہل کی صورتحال پر بات چیت کے لئے میری لینڈ کی ایک امریکی بحری اکیڈمی میں اپنے امریکی اور جاپانی ہم منصب سے ملاقات کی۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کے بیان میں اس ملاقات میں صرف ہند بحر الکاہل کی سلامتی کی مشترکہ تشویش کا مختصر طور پر تذکرہ کیا گیا ہے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا پر امریکہ چین دشمنی میں واشنگٹن کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے بالواسطہ دباؤ ڈالا گیا ہے۔

    امریکہ باضابطہ چین کے مقابلہ میں اپنے اتحاد کو مستحکم کرنے کے لئے اپنے ایشین اتحادیوں کو اشارے بھیج رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے “اسٹریٹجک ابہام” پر عمل پیرا ہے کیونکہ چین جنوبی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی پریشر معاشی امور پر بھی بڑھتا جارہا ہے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.