• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12397
    Aliya Sultan
    Participant

    ایران کی وزارت خارجہ نے عالمی طاقتوں اور تہران کے مابین جوہری معاہدے پر مذاکرات اور نیا فریق شامل کرنے کا امکان مسترد کر دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے کہا ہے کہ ’جوہری معاہدہ ایک کثیر الجہتی بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی منظوری اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت دی گئی، اس میں ردوبدل ممکن نہیں اور اس معاہدے کے فریق واضح ہیں جن میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔`

    ایران کی جانب سے یہ ردعمل فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں سعودی عرب کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔

    العربیہ ٹی وی سی سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات بہت سخت ہوں گے۔

    فرانسیسی صدر نے یہ بھی کہا کہ تہران کے ساتھ 2015 کے معاہدے میں علاقائی طاقتوں سے رجوع کیے بغیر جو غلطیاں ہوئیں ان سے گریز کرنا ہو گا۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ کہہ چکی ہے کہ وہ اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے لیکن اس سے پہلے تہران کو اس معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عملدرآمد شروع کرنا ہو گا۔

    واضح رہے کہ سنہ 2018 میں امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اور اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران نے جان بوجھ کر 2015 کے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجازت سے کہیں زیادہ یورینیئم کی افزودگی شروع کر دی تھی۔

    جوہری معاہدے کے تحت امریکہ، چین، فرانس، روس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی کے عوض پابندیوں میں نرمی کی تھی۔

    This article originally appeared on BBC Urdu
    More on this story…

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.