Jirga Pakistan

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11777
    admin
    Keymaster

    ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر نے پاک فضائیہ میں شامل ہونے والے 14 دو سیٹوں والے جے 17 بی طیاروں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹ کے لحاظ سے پاکستان کے لیے ان طیاروں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

    ’جب بھی ہم کسٹمر سے بات کرتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ ہمیں تربیت کے لیے ڈبل سیٹ والے جہاز چاہیئں اور ان جہازوں کو خاص طور پر اسی لیے تیار کیا گیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ پی اے سی کامرہ میں بدھ کو ان جے ایف 17 طیاروں کی بھی نمائش کی گئی جو پاکستان نے مختلف ممالک کو فروخت کرنے کے لیے تیار کیے ہیں۔

    جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اسے خود تیار کرتا ہے۔

    پاکستان نے چین کی مدد سے ہی ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے۔

    اس طیارے کی تیاری، اپ گریڈیشن اور ‘اوورہالنگ’ کی سہولیات بھی ملک کے اندر ہی دستیاب ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اس طیارے کی تیاری کے مراحل کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کا محتاج نہیں ہے۔

    دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق جے ایف تھنڈر طیارہ ایف-16 فیلکن کی طرح ہلکے وزن کے ساتھ ساتھ تمام تر موسمی حالات میں زمین اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے والا ہمہ جہت طیارہ ہے جو دور سے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل سے لیس ہے۔

    جے ایف-17 تھنڈر نے اسی صلاحیت کی بدولت بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل سے بالاکوٹ واقعے کے بعد انڈین فضائیہ کے مگ کو گرایا تو اس کے ساتھ ہی جے ایف-17 تھنڈر کو بھی خوب پذیرائی ملی۔

    جے ایف-17 تھنڈر طیاروں میں وہ جدید ریڈار نصب ہے جو رفال کی بھی بڑی خوبی گنی جاتی ہے۔ یہ طیارہ ہدف کو لاک کر کے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس کی رینج 150 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اور یہ میزائل اپنے ہدف کا بالکل ایسے ہی پیچھا کرتا ہے جیسے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔

    جے ایف-17 تھنڈر زمین پر حریف کی نگرانی اور فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی حملے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ طیارہ فضا سے زمین، فضا سے فضا اور فضا سے سطحِ آب پر حملہ کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ دیگر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    This article originally appeared on VOA Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.