Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #13652
    Shahid Masood
    Participant

    انڈیا میں تقریباً 60,000 کروڑ انڈین روپے والے فرانسیسی رفال طیاروں کے معاہدے پر تنازع ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔

    اس کی وجہ فرانس کے ایک خبر رساں ادارے ‘میڈیا پارٹ’ کی ایک خصوصی رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رفال بنانے والی کمپنی ڈاسو اور انڈین حکومت کے درمیان سودہ کرانے والے ایک شخص کو دس لاکھ یورو دیے گئے تھے جو کہ سودے کے لیے دی گئی رقم سے علیحدہ رقم تھی۔

    رفال طیاروں کے معاہدے میں مبینہ کرپشن پر میڈیا پارٹ کی تین قسطوں پر مبنی رپورٹ میں چند نئے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن میں نئی معلومات بھی سامنے آئی ہیں۔

    اس فرانسیسی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کا مضمون ہے ‘رفال جنگجو جیٹ کی انڈیا میں فروخت: ایک ریاستی سطح کے سکینڈل کو کس طرح دفن کر دیا گیا’۔

    ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘اس متنازع معاہدے کے ساتھ ڈاسو نے سودہ کرانے والے اس شخص کو دس لاکھ یورو کی رقم ادا کی جس کے بارے میں ایک دوسرے سکیورٹی سودے (آگسٹا ہیلی کاپٹر ڈیل) سے متعلق انڈیا میں تفتیش جاری ہے۔’

    رپورٹ کے مطابق ڈیل کرانے والے اس شخص کو کی گئی رقم کی ادائیگی سے متعلق اس وقت پتا چلا جب فرانسیسی اینٹی کرپشن ایجنسی ‘اے ایف اے’ ڈاسو کا ایک معمول کا آڈٹ کر رہی تھی۔ رپورٹ میں اس بارے میں بھی حیرانی کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس انکشاف کے باوجود اے ایف اے نے اہلکاروں کو متنبہ نہیں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق ڈیل کرانے والے شخص کو یہ پیسے رفال طیاروں کا ماڈل سپلائی کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان ماڈلز کی تعداد کے مطابق فی ماڈل 20,000 یورو کی ادائیگی درج کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ محض طیارے کے نقلی ماڈل کی قیمت 20,000 یورو کیسے ہو سکتی ہے؟

    More on this story on BBC Urdu

    Photo Source Rafale – RIAT 2009

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.