Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #16800
    Shahid Masood
    Participant

    نئی دہلی: سابق بھارتی سفیر راکیش سود نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے پیش نظر متبادل پلان نہ ہونے پر بھارت نے منہ کی کھائی اور برسوں کی محنت بے کار ہوگئی۔

    میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں راکیش سود نے چند سوالات کے انتہائی تلخ جوابات دیتے ہوئے مودی سرکاری کو کھری کھری سنائی۔

    سوال: طالبان کے ذریعہ اقتدار کو قبضے میں لینے کا ہندوستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

    افغانستان میں بھارتی سفیر کے ذمے داریاں نبھانے والے راکیش سود کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے پر نقصان بھارت کا ہی ہے، اس کے دو پہلو ہیں، پہلا یہ کہ خطے میں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھے گا، پاکستان کے ساتھ موجودہ تعلقات کے باعث یہ ہمارے لئے بدشگون ہوگا، دوسرا یہ کہ افغانستان اگر عدم استحکام رہے گا تو ہندوستان کے لحاط سے علاقائی سیکیورٹی کے لئے یہ بُرا ہی ثابت ہوگا۔

    کیا طالبان کا اقتدار پر قابض ہونا طے شدہ تھا؟

    راکیش سود کا کہنا تھا کہ اسے ٹالا نہیں جاسکتا، کیونکہ امریکا نے اسے قبول کرلیا تھا، خود امریکا نے افغانستان کو پاکستان اور آئی ایس آئی کے حوالے کیا، سابق بھارتی سفیر نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ سال ہی طے ہوگیا تھا کہ اسلامک ری پبلک کے گنتی کے دن بچے ہیں۔

    بحیثت سربراہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل بھارت افغانیوں کے لئے کیا کرسکتا ہے؟

    افغانستان میں ہندوستان کے سابق سفیر راکیش سود نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کچھ نہیں کر سکتا، اگر ہندوستان نے سارے داؤ ایک ہی متبادل پر نہیں لگائے ہوتے تو وہ کچھ کرنے کی حالت میں ہوتا، مگر اب حالات یہ ہیں کہ ہندوستان کو اپنے سفارت خانہ کے لوگوں سمیت مختلف کمپنیوں کے لیے وہاں کام کرنے والے افراد کو محفوظ طور پر نکالنے کے لئے پسینے بہانے پڑ رہے ہیں۔

    بھارت نے قدم اٹھانے میں تاخیر کیوں کی؟

    جس کا جواب دیتے ہوئے راکیش سود کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے یہ بات صاف تھی کہ طالبان اقتدار میں آئے گا، کم از کم دوحہ میں جاری بات چیت کے بعد تو یہ ظاہر ہو ہی گیا تھا، مگر بھارتی حکومت نے اسے نظرانداز کیا،سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت نے اسے نظرانداز کیوں کیا۔

    کیا ہندوستان کو طالبان جیسے سخت گیر ادارے سے بات چیت کرنی چاہیے؟

    جس کے جواب میں سابق سفیر کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کے بیان پر غور کریں، اس نے کہا کہ ہم سبھی فریقین سے بات کر رہے ہیں۔ ہم نے ان میٹنگوں میں حصہ لیا ہے جن میں طالبان بھی تھے۔ اس لیے سوال کسی ’سخت گیر‘ سے بات کرنے کا نہیں، افغانستان میں ہمارے کچھ مفادات ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وہاں موجود ہندوستانیوں اور ہمارے سفارتخانہ میں کام کرنے والوں کی سیکورٹی یقینی بنائے۔

    ہندوستان کا طالبان سے بات نہیں کرنا کیا مناسب نہیں رہا؟

    بھارتی سفیر کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا، ہم ان سے اس لیے بات نہیں کرتے کہ ان کا رویہ بدلنا تھا یا کہ ان کے اور پاکستان کے رشتوں میں دراڑ ڈالنا تھا، ہمیں صرف اس لیے بھی بات نہیں کرنی تھی کہ اپنے فیصلے لینے کی حالت میں ہوں، بلکہ اس لیے کہ ہم اس علاقہ کا حصہ ہیں اور ہمیں اچانک متبادل کی کمی کی حالت میں نہیں آنا چاہیے تھا۔

    کیا اس سے پاکستان اور چین کو سبقت مل گئی ہے؟

    افغانستان میں ہندوستان کے سابق سفیر نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حالت اچھی ہوگی تو چین کی بھی ہوگی۔

    دو دہائی قبل کے طالبان کا افغانستان پر قبضہ اور اب طالبان کے قبضہ میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟

    راکیش سود کا کہنا تھا کہ جب طالبان نے انیس سو چھیانوے میں کابل پر قبضہ کیا تھا تو صرف تین ممالک پاکستان، یو اے ای اور سعودی عرب نے اسے منظوری دی تھی، لیکن اس بار حالات مختلف ہیں۔ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کر کے اور چین، روسی، ترکی، ایران سمیت تمام دیگر ممالک کا سفر کر کے کافی حد تک منظوری حاصل کر چکا ہے، یہی سب سے بڑا فرق ہے۔

    This article originally appeared on ARY News

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.