Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9796
    Syed Muhammad
    Moderator

    نیوزڈیسک – سعودی عرب میں کھاتے داروں نے شکوہ کیا ہے کہ ایک بینک سے دوسرے مقامی بینک میں رقم منتقل کرنے پر فیس لی جانے لگی ہے- پہلے ایسا نہیں تھا جبکہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔

    المرصد ویب سائٹ کے مطابق ایک مقامی کھاتے دار نے الراجحی بینک سے استفسار کیا کہ کیا مقامی بینکوں میں ترسیل زر کی فیس لگا دی گئی ہے؟

    کھاتے دار نے توجہ دلائی کہ وہ یہ سوال اس لیے کررہا ہے کیونکہ اس نے الراجحی بینک کے اپنے کھاتے سے نیشنل کمرشل بینک کے کھاتے میں رقم منتقل کی تھی جس پر الراجحی نے اس کے کھاتے سے پانچ ریال کاٹ لیے ہیں ایسا کیوں ہے؟

    الراجحی بینک نے اس استفسار کے جواب میں کہا کہ 22 ستمبر 2020 تک ترسیل زر پر فیس سے استثنیٰ تھا جو اب ختم ہو چکا ہے- لہذا اس کے بعد سے فیس لی جانے لگی ہے۔

    ام عبدالرحمن نامی ایک کھاتے دار خاتون نے الراجحی کے نام پیغام میں دریافت کیا کہ اس نے الراجحی سے مقامی بینک میں رقم منتقل کی تھی ایسا کرنے پراس سے فیس وصول کی گئی آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ ام عبدالرحمن نےاپنے دعوے کا دستاویزی ثبوت بھی ارسال کیا تھا۔

    الراجحی نے ام عبدالرحمن کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں دراصل ترسیل زر پر استثنیٰ 22 ستمبر 2020 سے ختم ہو چکا ہے- مقامی بینکوں کے لیے آن لائن ترسیل زر پر جو استثنیٰ تھا اب نہیں ہے- 23 ستمبر 2020 سے اتوار سے جمعرات تک 9 بجے صبح سے لے کر سہ پہر ساڑھے تین بجے تک ترسیل زر فیس سات ریال ہے جبکہ اتوار سے جمعرات تک ساڑھے تین سے صبح نو بجے تک پانچ ریال ترسیل زر کی فیس ہے اور جمعرات سے ہفتے تک ساڑھے تین سے نو بجے صبح تک پانچ ریال فیس ہے۔پندرہ فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی مقرر ہے۔

     

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.