Jirga Politics

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7802
    Syed Muhammad
    Moderator

    ’’سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تو نہ بڑھ سکیں لیکن اپنے فائدے پر سب اکٹھے ہو گئے ‘‘ سینیٹ کی کمیٹی نے ارکان اسمبلی کے اہل خانہ کیلئے مفت فضائی سفر کی منظوری دے دی

    اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ کی کمیٹی نے ارکان اسمبلی کے اہل خانہ کیلئے مفت فضائی سفر کی منظوری دے دی، حکومت آئندہ مالی سال کیلئے جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہ نہیں بڑھا سکی وہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصول نے متفقہ طور پر ایک بل کی منظوری دی جس کے تحت پارلیمنٹیرین کے اہل خانہ کو 25 بزنس کلاس فضائی سفر کے ٹکٹ حاصل کرنے کی اجازت دے دی، ساتھ ہی ساتھ 3 لاکھ روپے کے اضافی ٹریول واؤچرز سے بھی نواز دیا گیا۔

    سینیٹ کی کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو نے متفقہ طور پر ارکان اسمبلی کے اہلخانہ کو مراعات دینے کے بل کی منظوری دے دی۔ اس بل کے تحت تمام ارکان اسمبلی کو تین لاکھ کے سفری الاؤنس کے ساتھ ہوائی جہاز کی بزنس کلاس کے 25ریٹرن ٹکٹ حاصل کرنے کی سہولت ہوگی جو ان کے اہلخانہ بھی استعمال کرسکیں گے۔تین لاکھ کے سفری واؤچرز فضائی سفر کے علاوہ ٹرین پر بھی سفر کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جو کہ نہ صرف ارکان اسمبلی بلکہ ان کے اہلخانہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

    پارلیمانی امور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی کی جانب سے پرزور اصرار کیا جارہا تھا کہ ان کے فضائی ٹکٹس کو ان کے اہلخانہ کو بھی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔مسودے کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو 25 بزنس کلاس ایئر ٹکٹس کے برابر سفری واؤچرز دیئے جائیں گے۔ ارکان اور ان کے اہل خانہ اپنے متعلقہ ایئرپورٹ سے قابل اطلاق ایئرلائن اور روٹس پر یہ واؤچر استعمال کریں گے۔سینیٹ میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں ترمیم کا بل وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کیا تھا۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا کہ قواعد کے تحت ارکان پارلیمنٹ اسلام آباد سفر کے لیے ہر سال 25 بزنس کلاس اوپن ریٹرن ٹکٹ کے مستحق ہیں۔ارکان کا مطالبہ تھا کہ 25 ٹکٹس کے استعمال کا حق ان کے خاندان کے افراد کو بھی دیا جائے 25 ایئر ٹکٹس کی جگہ برابر مالیت کے واؤچرز ارکان کو دینے کی تجویز ہے۔ یہ واؤچرز ارکان پارلیمنٹ کے خاندان کے ارکان بھی استعمال کر سکیں گے۔ایک سال کے لئے جاری کردہ 25 اوپن بزنس کلاس ہوائی ٹکٹ اور واؤچر کی میعاد ختم نہیں ہوگی اور اسے ارکان پارلیمنٹ کے اہل خانہ میں سے 18 سال سے کم عمر کے افراد کسی بھی وقت استعمال کر سکیں گے یہ سفری واؤچر شریک حیات یا بچے بھی استعمال کر سکیں گے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم ورہنما پیپلز پارٹی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے حکومت کی کوئی تیاری نہیں، جو بجٹ پیش کیا گیا وہ بہت نقصان دہ بجٹ ہے ،ہمارے ملک کے ہزاروں لوگ بیرون ملک ہیں جو پھنسے ہوئے ہیں کیا ہم اس قابل نہیں کہ ہم ان کو واپس لا سکیں،میرا مطالبہ ہے کہ حکومت بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو اپنے خرچے پر واپس لایا جائے، ایسے حالات میں بس لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ۔ ٹڈی دل سے کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں لیکن اس کیروک تھام میں حکومت ناکام رہی ہے، ۔ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں ۔ 1947ء میں اگر ان کو حکومت دی ہوتی تو انہو ںنے کہنا تھا کہ انگریزوں نے اس ملک کا بیڑہ غرق کیا ،وزیر اعظم پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں لیکن وہ کراچی جاتے ہیں اور وزیر اعلی سے نہیں ملتے ۔ اس رویئے سے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے ۔غلطیوں کو سنبھالنا وزیر اعظم کا کام ہے اگر کہیں گے اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے تو پھر کیسے اتفاق رائے پیدا ہو گا ۔

    جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ملک میں غیر معمولی حالات میں کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ جب ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں اس حوالے سے ہم نے جو ماحول بنانا تھا کیا وہ ہم نے پیدا کیا ہے ۔اپوزیشن کی ذمہ داری ہے لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہے ۔ ان حالات میں عوام کو حوصلہ دینے اور یکجا کرنے کی ضرورت تھی جس میں ہم کامیاب نہیں ہو سکے ۔ بہت دکھ کی بات ہے کہ ان حالات میں بھی ہم ایک نہیں ہو سکے اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا کی گئی اور کورونا وائرس کے حوالے سے بروقت فیصلہ نہیں کر سکے ۔ بجٹ کو میں دیکھا ہے کہ یہ ا یک ڈنگ پٹائو پروگرام کیا گیا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او نے جو ڈائریکشن دی ہے حکومت کی اس حوالے سے کیا پالیسی اپنائی گئی ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت کو جواب دہ بنایا ہے ۔ ایران بارڈر اور پی آئی اے کے حوالے سے بھی ہم نے حکومت کو پابند بنایا تھا ۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ آزاد کشمیر کے چودھری یاسین اس مرض کا شکار ہوئے ان کے لئے ساری رات اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ملی ۔ ان کو وینٹیلیٹر کی ضرورت ہے سب کی جان اہم ہے رات 11 بجے جا کر بڑی مشکل سے ایک بیڈ ملا اور اور آج چودھری یاسین زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ۔ کشمیر کے لیڈر آف اپوزیشن کیلئے ایک بیڈ اور وینٹیلیٹر ملنا بہت مشکل تھا اس کا مطلب ہے کہ حکومت کے پاس کوئی بندوبست نہیں ہے ۔وزیر اعظم ہمارے رول ماڈل ہیں جن کو دیکھ کر لوگ اندازہ لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں تین چار وزیر ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے اور انہوں نے ماسک بھی نہیں پہنے تھے ۔ انسان کی زندگی بچانے کے لئے ہمیں ہر حد تک جانا ہے اگہر خود احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے تو لوگ کیسے آپ کی بات مانیں گے ۔پہلے خود خطرے کو سمجھیں اور پھر دوسروں کو اس کے بارے میں بتائیں ۔ہیلتھ کے لئے 17 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ 80 ارب روپے ڈیم کیلئے رکھے گئے ہین کہیں ارسطو نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت نے سب کچھ کورونا وائرس پر ڈال دیا ہے ۔ کورونا وائرس سے پہلے حکومت نے کیا کہا ہے ۔ افراط زر سے عام آدمی کی زندگی مشکل کر دیتی ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں ۔ پنشنرز کی پنشن میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ ایک غریب کو زیادہ غریب کر کے دوسرے غریب کی مدد کی جا رہی ہے ۔ کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے حکومت کی کوئی تیاری نہیں ہے اور جو بجٹ پیش کیا گیا وہ بہت نقصان دہ بجٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے ہزاروں لوگ بیرون ملک ہیں جو پھنسے ہوئے ہیں کیا ہم اس قابل نہیں کہ ہم ان کو واپس لا سکیں ۔ سعودیہ ، دبئی ، شارجہ ، امریکہ ، برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی کیا پوزیشن ہے ۔ ایسے حالات میں بس لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے 

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.