• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #13539
    Shaista Khan
    Participant

    فضائی سفر کی صنعت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں جہازوں میں ایسے روبوٹ کا تجربہ کیا جارہا ہے جس میں وائرس کو ختم کرنے والی الٹرا وائلٹ لائٹ موجود ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں یوویا نامی ایک کمپنی دبئی کی دناتا نامی ایئرپورٹ سروس ہلویٹک کے امبریئر جیٹس میں ان روبوٹس کا تجربہ کررہی ہے، واضح رہے کہ ہلویٹک ایئرلائنز سوئٹزرلینڈ میں مارٹن ایبنر نامی ارب پتی شخص کی ملکیت ہے۔

    یوویا کے ساتھی بانی جوڈوک ایلمیگر کا کہنا ہے کہ جس جہاز میں ان روبوٹس کا استعمال کیا جائے گا ان میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ کہیں یووی لائٹس سے جہاز کے اندر نشستیں اور دیگر چیزوں کو نقصان نہ پہنچے۔

    علاوہ ازیں جہاز کے اندر ڈس انفیکٹ کا زیادہ استعمال نشستوں وغیرہ کی رنگت ختم کرسکتا ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ کووڈ 19 کی موجودگی میں صفائی کے اس نظام سے لوگ ہوائی سفر سے نہیں گھبرائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کو اسپتالوں اور لیبارٹریز میں 50 سال سے زائد کے عرصے سے استعمال کیا جارہا ہے اور یہ اتنی مؤثر ہے کہ کوئی نشان نہیں چھوڑتی۔

    جوڈوک ایلمیگر کی ٹیم نے اس روبوٹ کے تین نمونے تیار کیے ہیں جن میں سے ایک کو سوئٹزرلینڈ میں زیورخ کے ایئرپورٹ میں آزمایا جا چکا ہے۔

    اس ایئرپورٹ پر گذشتہ سال لوگوں کا آنا جانا 75 فیصد کم ہو گیا تھا، روبوٹ کی لائٹ جہاز کے اندر ہر چیز پر نیلے رنگ کی شعائیں بکھیر دیتی ہے۔

    ایک روبوٹ ایک چھوٹے جہاز کو 13 منٹ میں ڈس انفیکٹ کر سکتا ہے۔

    ہیلویٹک ایئرلائن ایک نجی کمپنی ہے جسے اب تک دیگر ایئرلائنز کی طرح زیادہ امداد کی ضرورت نہیں پڑی ہے، تاہم کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس کے کاروبار پر اثر پڑا ہے، ایئرلائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ان روبوٹس کے استعمال سے بہتری آئے گی۔‘

    اگر ہمارے مسافروں، عملے کو معلوم ہوگا کہ ہمارے جہاز محفوظ ہیں، ان میں کوئی وائرس یا بیکٹیریا نہیں ہے، تو انہیں فضائی سفر کرنے میں مدد ملے گی۔

    Source: Ary News

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.