• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12013
    Syed Muhammad
    Moderator

    استنبول: دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن واٹس ایپ کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کے میڈیا آفس نے واٹس ایپ کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کردیا۔

    فرانسیسی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز واٹس ایپ کے جاری کردہ وضاحتی بیانات کے بعد ترک صدارتی دفتر نے کہا کہ ان کا میڈیا آفس اب صحافیوں کو بی آئی پی ایپ کے ذریعے بریفنگ دے گا، جو ترکش کمیونیکیشن کمپنی ترک سیل کا یونٹ ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ نے کی طرف سے نئی پرائیویٹ پالیسی کے حوالے سے وضاحت

    گزشتہ ہفتے متعارف کروائے جانے والی واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے ترکی میں موجود صارفین کی جانب سے ٹوئٹر پر DeletingWhatsapp کا ہیش ٹیگ استعمال کرکے اس پالیسی پر اعتراض کیا جارہا ہے۔

    ترک ریاستی میڈیا نے ترک سیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف 24 گھنٹے میں بی آئی پی کے صارفین میں 11 لاکھ 20 ہزار صارفین کا اضافہ ہوا جبکہ دنیا بھر میں اس کے 5 کروڑ 30 لاکھ صارفین ہیں۔

    ترکی کے صدارتی دفتر برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے سربراہ علی طحہ نے 2 روز قبل واٹس ایپ کی نئے ضوابط و پالیسی پر تنقید کی کہ برطانیہ اور یورپی یونین میں موجود صارفین کو نئے ڈیٹا شیئرنگ قوانین سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔انہوں نے ترک شہریوں سے ‘قومی اور مقامی’ ایپس جیسا کہ بی آئی پی اور دیدی استعمال کرنے کا کہا۔

    مریخ پر شہر بسانے کے خواہش مند ایلن مسک دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے

    علی طحہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ڈیٹا پرائیویسی کے معاملے میں یورپی یونین کے ممالک اور دیگر ممالک میں تفریق ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ جیسا کہ ہم نے انفارمیشن اور کمیونیکیشن سیکیورٹی ہدایات میں یہ واضح کیا ہے کہ غیرملکی ایپس میں ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق نمایاں خطرات موجود ہوتے ہیں۔

    علی طحہ نے کہا کہ اسی لیے ہمیں اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا کو مقامی اور قومی سافٹ ویئر سے محفوظ بنانے اور اسے ہماری ضرورتوں کے مطابق ڈیولپ کرنے کی ضرورت ہے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.