Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10619
    Zaid
    Moderator

    اسلام آباد(آن لائن) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں، وزیراعظم عمران خان 8 کروڑ سے زائد روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں وزیراعظم عمران خان کا اندرون اور بیرون ملک کوئی کاروبار اور اپنی کوئی ذاتی گاڑی موجود نہیں ہے وزیراعظم عمران خان کے چار غیرملکی اکاونٹس میں 3 لاکھ 31 ہزار 230 امریکی ڈالرز اور 518 پاونڈزموجود ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے پاس 1 کروڑ 99 لاکھ سے زائد کیش بھی موجود ہے وزیراعظم عمران خان کے پاس 2 لاکھ روپے مالیت کی چار بکریاں بھی موجود ہیں وزیراعظم نے فیروزوالہ میں 80 کنال زمین کے عوض 7 کروڑ سے زائد کا ایڈوانس بھی لے رکھا ہے۔

    دیگر اراکین اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان 3ارب 20کروڑ کے اثاثوں کے ساتھ امیر ترین جبکہ جے یوآئی کے رکن اسمبلی مولانا عصمت اللہ 11لاکھ روپے کے اثاثوں کے ساتھ غریب ترین رکن قرار پائے ہیں،شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 24کروڑ،بلاو ل بھٹو کے اثاثوں کی مالیت 1ارب 58کروڑ جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری کے اثاثوں کی مالیت 67کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ 

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اراکین قومی اسمبلی کے اثاثوں کی جاری ہونے والے تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 8 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ اسپیکر اسد قیصر 1 کروڑ 26 لاکھ روپے سے زائد رقم کے مقروض ہیں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان 1 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک نکلے ہیں۔ 

    عمر ایوب خان نے 2 کروڑ روپے کا قرض لے رکھا ہے وزیر دفاع پرویز خٹک 15 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں وزیر دفاع پرویز خٹک اپنی ساس کے اڑھائی کروڑ روپے کے مقروض ہیں۔ 

    سابق وزیر منصوبہ بندیاحسن اقبال کی زرعی زمین چار ایکٹر بتائی گئی ہے اور ایک اعشاریہ ایک ملین روپے کا ناروال میں رہائشی پلاٹ بھی ظاہر کیا ہے اس کے علاوہ رحیم یار خان میں آٹھ ایکٹر کی زمین بھی موجود ہے سابق وفاقی وزیر نے اپنی تفصیلات میں صرف دس ہزار روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی ہے جبکہ دو اعشاریہ چار ملین روپے کی مالیت کی گاڑی بھی ظاہر کی ہے سابق وفاقی وزیر احسناقبال نے پندرہ تولے زیور ات اور پانچ لاکھ سے زائد رقم بینک میں ظاہر کی ہے جبکہ ان کے اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی کاروبار نہ ہونے کا اقرار کیا ہے۔ 

    سابق وزیر تجارت انجینئرخرم دستگیر نے 12لاکھ 99 ہزار سے زائد کا کاروبار 22 لاکھ روپے کی گاڑی جبکہ 9 لاکھ سے زائد رقم بینک اکاونٹ میں ظاہر کی ہے تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی ریاض فتیانہ 54لاکھ 86ہزار سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں خاتون رکن اسمبلی غلام بی بی بھروانہ 35 لاکھ سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں رکن اسمبلی برجیس طاہر کے پاس 3کروڑ تیرہ لاکھ سے زائد کے اثاثے ہیں چیرمین پبلک اکاونٹ کمیٹی رانا تنویر حسین کے پاس 22 کروڑ 68 لاکھ سے زائد کے اثاثے ہیں لیگی رہنما رکن اسمبلی شیخ روحیل اصغر 16 کروڑ 70 لاکھ سے زائد کے اثاثوں کےمالک ہیں۔ 

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہبازشریف نے پاکستان میں غیر زرعی اراضی کی قیمت 1کروڑ 47 لاکھ روپے ظاہر کی ہے جبکہ سینکڑوں کنال اراضی تحفے کے طور پر ظاہر کی ہے میاں شہبازشریف نے 13 کروڑ 78لاکھ سے زائد اثاثے برطانیہ میں ظاہر کیے ہیں جبکہ ان کے بینک اکاونٹ میں 6کروڑ 39 لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں اور اپنیجائیداد سمیت تمام اثاثوں کی قیمت 24 کروڑ 74 لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں سابق وزیر اعلیٰ شہبازشریف نے جائیداد کے اوپر 10 کروڑ روپے کا قرضہ بھی ظاہر کیا ہے ان کے لاہور میں 14 بینک اکاؤنٹ ہیں انہوں نے سینکڑوں ایکٹر زرعی اراضی کی قیمت چھبیس لاکھ روپے ظاہر کی ہے جبکہ بینک قرضوں اور ہاوس بلڈنگ لون کی مد میں 13کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد قرضہ ظاہر کیا ہے۔ 

    قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل 5 کروڑ 96 لاکھ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں رکن قومی اسمبلی سیدنوید قمر 6کروڑ 59 لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں سابق صدر آصف علی زرداری 67 کروڑ 68 لاکھ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں جبکہ بینک اورہاوس بلڈنگ سمیت دیگر قرضوں کی مد میں 2 کروڑ 26 لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں۔

    سابق صدر کے آصف زرداری کے پاس نواب شاہ میں کروڑوں کی جائیداد ہے جبکہ رتو ڈھیرو کی اکثر زمینیں وراثتی ظاہر کی ہیں سابق صدر کے پاس 1کروڑ 67 لاکھ کا اسلحہ موجود ہے اور پاکستان میں آصف زرداری کے 79 لاکھ روپے کا کاروبار ہے ان کے گھوڑوں اور پالتو جانوروں کی قیمت 99 لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔

    پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو کے پاس 1 ارب 58 کروڑ 52 لاکھ روپے سے زائدکے اثاثے ہیں انہوں نے جی سیکس فور اسلام آباد میں گھر تحفے میں ظاہر کیا ہے جبکہ رتو ڈیرو میں زرعی زمین کی قیمت 10 ہزار 7 سو 76روپے ظاہر کی ہے بلاول بھٹو نے زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ میں 2 لاکھ 10 ہزار روپے کے شئیرز ظاہر کیے ہیں جبکہ 12 لاکھ 51 ہزار کے سیونگ سرٹیفکیٹس بھی بتائے ہیں۔ 

    بلاول بھٹو کے آٹھ بینک اکاونٹ ہیں انہوں نے دبئی کی مختلف کمپنیزمیں اپنے شئیرز ظاہر کیے ہیں جس کی مطابق6 کروڑ 76 لاکھ روپے برطانیہ میں وکٹری انٹرپرائزز لیمیڈ کے حوالے سے اثاثے ظاہر کیے ہیں اس کے علاوہ دوبئی میں کروڑوں روپے کے اثاثے 18کمپننیز کے حوالے سے ظاہر کیے گئے ہیں۔ 

    سابق وزیر خواجہ سعد رفیق کے 12کروڑ سے زائد کے اثاثے ہیں جبکہ قرضوں کی مد میں دو کروڑ پچانوے لاکھ ظاہر کیے ہیں خواجہ سعد رفیق کے پاس 57 لاکھ روپے سے زائد کی دو گاڑیاں ہیں اور52 لاکھ روپے چار بینک اکاونٹس میں موجود ہے خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ غزالہ سعد رفیق کے پاس چالیس تولے سونے کے زیورات ہیں جبکہ شفق حرا کے پاس نو لاکھ پچاس ہزار روپے کیش اور 12 لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں۔ 

    سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے پاس 6 کروڑ سے زائد کے اثاثےہیں اور80 ہزار روپے کے زیورات ہیں ان کے پاس بینک میں 99 لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے انہوں نے اپنی تفصیلات میں گلبرگ لاہور میں تین کروڑ سے زائد اور 2کروڑ 58 لاکھ سے زائد کے دو پلاٹ بھی ظاہر کیے ہیں سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے 6 لاکھ 60 ہزار روپے کے اثاثے اہلیہ کے نام ظاہر کیے ہیں۔ 

    سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 6کروڑ روپے کے اثاثے ظاہرکیے ہیں شاہد خاقان عباسی نے اپنے چھ بینک اکاونٹس میں 7 لاکھ روپے کی رقم ظاہر کی ہے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے جبکہ پاکستان میں 10لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی ہے مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کے اکاونٹ میں 8 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ظاہر کی ہے جبکہ وہ چالیس لاکھ روپے کی زرعی زمین کےمالک ہیں اسعد محمود کے پاس کوئی ذاتی گاڑی نہیں ہے۔ 

    سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سرداراختر مینگل کے اثاثوں کی مالیت لاکھوں میں ہے انہوں نے 30 لاکھ روپے کے جانور بھی اثاثوں میں ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ ساڑھے آٹھ لاکھ کا فرنیچر ظاہر کیا گیا ہے ان کے مختلف بینک اکاونٹس میں سترہ ہزار سے زائد کی رقم ظاہر کی گئی ہے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے 2 کروڑ سےزائد کے اثاثے ظاہر کیے ہیں راجہ پرویز اشرف کی اہلیہ کے پاس 100 تولے سونا ہے راجہ پرویز اشرف کے پاس تین بینک اکاونٹس میں ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے۔ 

    سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب تین کروڑ سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں مریم اورنگزیب کا ایگرو فارم ہے مریم اورنگزیب کا ایک بینک اکاونٹس آسٹریلیا میں بھی ہے مریم اورنگزیب کے پاس بارہ لاکھ مالیت کا سولہ تولے زیور ہے۔ 

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم 3 ارب کے اثاثوں کے ساتھ سب سے امیر ترین رکن قومی اسمبلی جبکہ کوئٹہ سے رکن اسمبلی مولوی عصمت اللہ 11 لاکھ روپے اثاثوں کے مالک کے ساتھ غریب رکن اسمبلی کی فہرست میں شامل ہیں۔ 

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کے صاھبزادے مونس الہی ایک ارب، 42 کروڑ اور 9 لاکھ روپےکے اثاثوں کے مالک مونس الہی جے ڈی ڈبلیو شوگر مل کے ایک ہزار شئیرز کے بھی مالک ہیں مونس الہی کی اہلیہ نے نام 7 کروڑ، 86 لاکھ روپے کے اثاثے ہیں۔ 

    مسلم لیگ ق کے چودھری سالک حسین ایک ارب، 54 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ 10 کروڑ 97 لاکھ روپے کی جائیداد کے مالک ہیں طارق بشیر چیمہ کے پاس 100 تولے سونا اور45 لاکھ روپے کی گاڑی بھی ہے وفاقی وزیر خسرو بختیار 27 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں مخدوم خسرو بختیار نے رینج روور گاڑی کو والدین کی طرف سے تحفہ ظاہر کیا ہے۔ 

    وفاقی وزیر سید امین الحق کے پاس ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ہیں کنوینئر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی ایک کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ 

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہشیخ رشید احمد 4 کروڑ 65 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک نکلے ہیں قومی وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کے پاس ڈیرہ بگٹی میں 23 ہزار ایکڑ وراثتی زمین ہے نوابزادہ شاہ زین بگٹی کے پاس سانگھڑ میں 836 ایکڑزرعی زمین بھی ہے شاہ زین بگٹی نے پٹرول پمپ کی ملکیت ایک کروڑ روپے ظاہر کی ہے شاہ زین بگٹی نے اپنے اثاثون کی تفصیلات میں نہ تو کوئی گاڑی ظاہر کی اور نہ ہی چار بنک اکاؤنٹس میں کوئی رقم موجود ہے۔ 

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.