Jirga Pakistan

  • This topic has 0 replies, 1 voice, and was last updated 1 week ago by M Khan.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7918
    M Khan
    Moderator

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک مرتبہ پھر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈین وزیر اعظم کوئی عام انسان نہیں بلکہ سائیکوپیتھ ہیں جو اپنے آپ کو ہٹلر کا جانشین سمجھتے ہیں۔‘

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ’احساس ایمرجنسی کیش پروگرام‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے پاکستانی بہت مشکل زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ انڈیا کی جانب سے ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں یہاں کے باسی اپنی جانوں سے جاتے ہیں اور ان کے گھر بار تباہ ہو جاتے ہیں۔

    عمران خان نے اپنی تقریر کا آغاز یہ بتاتے ہوئے کیا کہ آج (26 جون) تشدد کا شکار ہونے والے افراد کی یاد کا دن عالمی سطح پر منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر دنیا کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں پر ہونے والے تشدد کو نہیں بھولنا چاہیے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس پانچ اگست کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے آئینی ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد یہ مسئلہ اقوام متحدہ اور عالمی میڈیا میں بہتر انداز میں اٹھا دیا تھا ’مگر جب ہم واپس آئے تو پتا چلا ایک آزادی مارچ جاری و ساری ہے، یہ ایسا مارچ تھا جس کے ذریعے جان بوجھ کر کشمیر کے مسئلے کو سبوتاژ کیا گیا۔‘

    یاد رہے کہ عمران خان گذشتہ برس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متحرک خودمختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے کیے جانے والے مارچ پر بات کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ عالمی رہنماؤں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’انڈین وزیر اعظم کی سوچ کس حد تک خطرناک ہے۔‘

    پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اور پوری دنیا میں موجود پاکستانی پانچ اگست سے پہلے تیاری کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ گذشتہ برس اس دن کیا ہوا تھا اور اب کیا ہو رہا ہے۔

    اگرچہ وزیر اعظم عمران خان گاہے بگاہے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے رہتے ہیں تاہم عموماً مودی کی جانب سے اس کا جواب نہیں دیا جاتا۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’آر ایس ایس کی ہندو انتہا پسند نریندر مودی کی حکومت نے کشمریوں پر جو ظلم کیا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بچوں کو اٹھا اٹھا کر جیلوں میں پھینکا گیا، انھیں پیلٹ گنز کی مدد سے عمر بھر کے لیے معذور کیا گیا اور لوگوں کو مار مار کر ان کی اجتماعی قبریں بنائی گئیں جو اب سامنے آ رہی ہیں۔‘

     انھوں نے کہا کہ ’جو ظالم ہوتا وہ عموماً بزدل ہوتا ہے اور ان لوگوں پر ظلم کرتا ہے جو بے بس ہوتے ہیں۔ انڈیا کی آٹھ لاکھ فوج کشمریوں کے اوپر مسلط کی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کو شہید کرتے ہیں۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈیا یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کر رہا ہے، ’مودی کی سوچ وہی ہے جو انھوں نے گجرات میں کیا تھا۔ انھوں نے تین دن پولیس کو پیچھے رکھا اور آر ایس ایس کے قاتل جا جا کر مسلمانوں کو قتل اور ریپ کرتے رہے اور انھیں بیدخل کیا۔

    ’تب ہی پتا چل جانا چاہیے تھا کہ اس آدمی کی کیا سوچ ہے۔ یہ کوئی عام آدمی نہیں ہے بلکہ سائیکوپیتھ (دماغی خلل میں مبتلا شخص) ہے۔ جس طرح کی اُن کی سوچ ہے یہی سوچ ان کی پارٹی کی ہے۔ یہ اپنے آپ کو ہٹلر کی نازی پارٹی کے جانشین سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پہلے شہریوں کی شہریت کو مشکوک بنایا گیا جیسے ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف کیا اور بعد میں ان کی نسل کشی کی گئی۔ ’مودی بھی اُسی طرف جا رہے ہیں مگر پاکستان ساری دنیا میں کشمیر کا سفیر بنے گا۔ میں یہ مسئلہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ اٹھاتا رہا ہوں اور اٹھاتا رہوں گا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مودی اپنی سوچ سے انڈیا کی تباہی کر رہے ہیں اور وہاں پڑھے لکھے لوگ بھی یہی کہہ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ’یہ خوف اور دہشت پھیلا رہے ہیں مگر کشمیریوں کا جذبہ کبھی کم نہیں ہو گا۔ ڈرا دھمکا کر آپ قابو کر لیں گے، ایسے کبھی نہیں ہو گا اور تحریک جاری رہے گی۔‘

    انھوں نے لائن آف کنٹرول پر رہنے والے افراد کو حکومت کی بھرپور مدد کا یقین دلایا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا بجٹ بڑھایا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    This article originally appeared on BBC Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.