Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #14438
    Syed Muhammad
    Moderator

    اسلام آباد — “اگر ہمیں قونصلیٹ جانا پڑ جائے تو سمجھیں پورا دن ضائع ہو گا اور کوئی ضمانت نہیں ہے کہ جس کام سے گئے ہیں وہ ہو گا یا صرف چکر ہی لگے گا۔” افضل اعوان گزشتہ 15 برس سے سعودی عرب میں ملازمت کر رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارت خانے اور قونصل خانوں میں دستاویزات کی تصدیق یا پاسپورٹ کی تجدید جیسے معمولی کام بھی اُن جیسے افراد کے لیے صبر آزما اور وقت طلب عمل ہے۔

    افضل اعوان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے سفارتی عملے کی معطلی اور تحقیقات کا درست قدم اٹھایا ہے جس کے بعد اُن سمیت دیگر پاکستانیوں کے خیال میں حالات بہتر ہوں گے۔

    گزشتہ روز پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے عوامی شکایات پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں تعینات سفیر راجہ علی اعجاز کو معطل کرتے ہوئے سفارت خانے کے چھ افسران کو وطن واپس طلب کیا ہے۔

    سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے سفارت خانے کے عملے کے ناروا رویے، بدسلوکی اور رشوت طلب کرنے کی شکایات کی تھیں جس کے بعد یہ سفارتی عملے کی معطلی اور واپس طلب کرنے کے اقدامات سامنے آئے ہیں اور وزیرِ اعظم نے ان شکایات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

    دفترِ خارجہ نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں مقیم تارکِ وطن پاکستانیوں کی شکایات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اعلیٰ اختیارات کی حامل کمیٹی اس تمام معاملے کا جائزہ لے گی۔

    بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومتِ پاکستان سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کریں۔

    More on this story from VOA Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.