• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11156
    Shaista Khan
    Participant

    قدم انساں کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے 

    چلے کتنا ہی کوئی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے 

    نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا پھر بھی 

    ہجوم کشمکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے 

    خلاف مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں مگر ناصح 

    وہ آتے ہیں تو چہرے پر تغیر آ ہی جاتا ہے 

    ہوائیں زور کتنا ہی لگائیں آندھیاں بن کر 

    مگر جو گھر کے آتا ہے وہ بادل چھا ہی جاتا ہے 

    شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی 

    مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے 

    شگوفوں پر بھی آتی ہیں بلائیں یوں تو کہنے کو 

    مگر جو پھول بن جاتا ہے وہ کمھلا ہی جاتا ہے 

    سمجھتی ہیں مآل گل مگر کیا زور فطرت ہے 

    سحر ہوتے ہی کلیوں کو تبسم آ ہی جاتا ہے 

    جوشؔ ملیح آبادی

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.