Jirga Pakistan

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7733
    M Khan
    Moderator

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ کے مطابق اس ریفرنس میں نقائص موجود ہیں اور اگر یہ کوئی عام معاملہ ہوتا تو کیس کب کا خارج کیا جا چکا ہوتا۔

    منگل کو عدالت عظمی کے 10رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اس صدارتی ریفرنس میں بدنیتی نظر آئی تو اسے خارج کر دیا جائے گا۔

    انھوں نے وفاق کے وکیل فروع نسیم کو یہ آپشن بھی دی کہ وہ اس نکتے پر وزیر اعظم اور صدر سے مشاورت کر لیں کہ آیا وہ اس کیس کو پہلے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اگر بورڈ کا فیصلہ جج کی اہلیہ کے خلاف آتا ہے تو اس معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیا جائے۔

    عدالت نے فروغ نسیم سے کہا کہ اگر صدر اور وزیر اعظم ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو وہ اپنے دلائل جاری رکھیں اور عدالت قانون کے مطابق فیصلہ دے گی تاہم اگر وزیراعظم اور صدر اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں تو عدالت درخواست گزار کے وکیل کی رضامندی کے بعد ایف بی آر کو کہہ سکتی ہے کہ وہ عدالتی چھٹیوں کے دوران اس معاملے میں فیصلہ دے۔

    وفاق کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی نظر میں یہ ایک بہتر راستہ ہو سکتا ہے اور سوال اٹھایا کہ ایف بی آر کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے تو ٹائم فریم اور طریقہ کار کیا ہو گا؟

    اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ایف بی آر اس نتیجے پر پہنچے کہ جن ذرائع سے یہ جائیداد خریدی گئی ہے وہ درست ہیں، جبکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٹیکس اتھارٹی کے فیصلے سے سپریم جوڈیشل کونسل اتفاق نہ کرے۔

    عدالت نے فروغ نسیم کو مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرنے کے لیے 17 جون تک کا وقت دیا ہے۔

    وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ وہ جج کی عوام میں حثیت کے بارے میں دلائل دیں گے جس پر بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ جج کی معاشرے میں حیثیت اور اس کے احتساب کے بارے میں سب متفق ہیں۔ اس لیے وہ آج بدنیتی اور جج کے خلاف شواہد اکھٹے کے بارے میں دلائل دیں۔

    بینچ کے سربراہ نے کہا کہ درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی نے کبھی بھی لندن کی جائیداد کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا اور وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    بینچ میں موجود جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے درخواست گزار کی اہلیہ کو نوٹس جاری کیا ہوا ہے، بہتر یہ ہوتا کہ پہلے ان کو فیصلہ کرنے دیا جاتا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر درخواست گزار کی اہلیہ کے خلاف فیصلہ دیتی تو پھر اس معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل میں لے جایا جاتا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں بدنیتی ظاہر ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل کو کارروائی کا اختیار ہے۔

    وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کے خلاف ضابطے کی کارروائی ہوتی ہے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ضابطے کی کاروائی کا انحصار کسی دوسری کارروائی پر کیسے ہوگا۔ اُنھوں نے سوال اُٹھایا کہ جب ضابطے کی کارروائی کا انحصار کسی دوسری کارروائی پر ہوگا تو آزادانہ کارروائی کیسے ہوگی اور اس صورت حال میں ضابطے کی کارروائی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.