Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10222
    Shaista Khan
    Participant

    ایک نئی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کی تصویروں سے ایک لاکھ سے زیادہ خواتین کی جعلی عریاں تصاویر تیار کرنے کے بعد آن لائن شیئر کی گئی ہیں۔

    مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے خواتین کی تصاویر سے کپڑے ڈیجیٹل طریقے سے ہٹا دیے جاتے ہیں اور میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر انھیں پھیلایا جاتا ہے۔

    انٹیلیجنس کمپنی سینسِٹی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں سے کچھ بظاہر ’کم عمر‘ ہیں۔

    لیکن یہ سروس چلانے والوں کا کہنا ہے یہ محض ’تفریح‘ کے لیے کیا گیا ہے۔

    بی بی سی نے اس سافٹ ویئر کو ٹیسٹ کیا لیکن اس کے نتائج اچھے نہیں تھے۔

    سینسِٹی کا دعویٰ ہے کہ اس میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ ’ڈیپ فیک بوٹ‘ ہے۔ ڈیپ فیکس اصل ٹیمپلیٹس کی بنیاد پر کمپیوٹر سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز ہوتی ہیں اور اکثر اس کا استعمال مشہور شخصیات کی جعلی فحش ویڈیو بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

    لیکن سینسِٹی کے چیف ایگزیکٹو جورجیو پٹرینی نے کہا کہ پرائیویٹ لوگوں کی تصاویر کا استعمال نئی بات ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر آپ تصویروں کے ساتھ سوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھتے ہیں تو آپ کو بھی اس کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

     

    ’ٹیلی گرام بوٹ‘

    مصنوعی ذہانت سے چلنے والا بوٹ، ٹیلی گرام پرائیویٹ میسجنِگ چینل کے اندر ہوتا ہے۔ صارف بوٹ کو عورت کی تصویر بھیج سکتے ہیں اور وہ بغیر کسی قیمت کے منٹوں میں ڈیجیٹل طریقے سے اس کے کپڑے ہٹا دے گا۔

    بی بی سی نے متعدد تصاویر کا تجربہ کیا اور یہ سب رضامندی کے ساتھ ہوا اور ان میں سے کسی کا بھی نتیجہ مکمل طور پر حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔

    پچھلے سال اسی طرح کی ایک ایپ بند کر دی گئی تھی لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس سافٹ ویئر کے کریکر ورژن کام کر رہے ہیں۔

    اس سروس کو چلانے والے منتظم جنھیں صرف ’پی‘ کہا جاتا ہے، کا کہنا ہے ’مجھے اس کی پرواہ نہیں، یہ ایسی تفریح ہے جس میں تشدد نہیں۔‘

    ’اس سے کوئی بھی کسی کو بلیک میل نہیں کرے گا کیونکہ اس کا معیار غیر حقیقی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیم اس بات پر نظر رکھتی ہے کہ کونسی تصاویر شیئیر کی جا رہی ہیں اور ’اگر ہم کسی کم عمر صارف کو دیکھتے تو اسے بلاک کر دیا جاتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ تصویر کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اس کا ہوتا ہے، جس نے بوٹ کو اس کی تخلیق کے لیے پہلے استعمال کیا۔

    انھوں نے مزید کہا ’دنیا میں جنگیں، بیماریاں اور بہت سی بری چیزیں ہیں جو نقصان دہ ہیں‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی تمام تصاویر کو ہٹا دیں گے۔

    ٹیلیگرام نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

    سینسِٹی نے بتایا کہ جولائی 2019 سے 2020 کے درمیان تقریبا 104،852 خواتین کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی جعلی برہنہ تصاویر عوامی طور پر شیئر کی گئیں۔

    تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ کچھ تصاویر بظاہر کم عمری لڑکیوں کی تھیں ’جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ صارفین بنیادی طور پر بچوں کی فحش تصاویر تیار کرنے اور بانٹنے کے لیے بوٹ استعمال کر رہے ہیں۔‘

    سینسِٹی کے رپورٹ کے مطابق روسی سوشل میڈیا سائٹ ’وی کے‘ پر اس بوٹ کی نمایاں تشہیر ہوئی ہے اور پلیٹ فارم پر ہونے والے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر صارفین روس اور سابق یو ایس ایس آر ممالک کے تھے۔

    یاد رہے کہ اس سال کے ابتدائی اوائل تک روس میں ٹیلی گرام پر سرکاری طور پر پابندی عائد تھی۔

    سینسِٹی کے جورجیو پٹرینی نے کہا ’ان میں سے بہت ساری ویب سائٹس یا ایپس چھپ کر کام نہیں کرتیں کیونکہ ان پر پابندی نہیں اور جب تک ان پر سخت پابندی نہیں ہو گی صورتِحال مزید خراب ہوتی جائے گی۔‘

    رپورٹ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹیلیگرام، وی کے اور قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں کے ساتھ اپنی تمام تر معلومات شیئر کی ہیں لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔

    کتاب ڈیپ فیکس اینڈ دا انفوکلیپسی کی مصنف نینا سچِک نے کہا کہ ڈیپ فیک تخلیق کار ساری دنیا میں موجود ہیں اور قانونی تحفظ کے سبب اس ٹیکنالوجی پر قابو نہیں کیا جا رہا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ جعلی فحش ویڈیوز کی تعداد ہر چھ ماہ بعد دوگنی ہوتی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا قانونی نظام اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ’تکنیکی ترقی کے سبب معاشرتی تبدیلیاں ہمارے تصور سے بھی تیز آ رہی ہیں اور اس پر کیسے قابو کیا جائے، بطور معاشرہ ہم اس کا فیصلہ نہیں کر پا رہے۔‘

    This article originally appeared on BBC Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.