• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12457
    Aliya Sultan
    Participant

    پیرس: فرانسیسی پارلیمنٹ نے ایک متنازع بل پر بحث شروع کردی جس کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلامی انتہا پسندی ‘بیماری’ ہے جو ملک کے اتحاد کو کھوکھلا کررہی ہے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ایوان زیریں قومی اسمبلی نے قانون سازی پر دوہفتوں کے لیے منتازع بحث کا آغاز کردیا جبکہ بائیں بازو کا کہنا ہے کہ اس سے مسلمانوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔

    اس قانون کو علیحدگی پسندی کے بل کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وزرا کو خوف ہے کہ بنیاد پرست مسلمان فرانس کی سخت سیکولر شناخت سے الگ معاشرے بنا رہے ہیں۔

    مسلم ممالک میں اس کی کڑی تنقید کی جارہی ہے۔

    وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارامنین نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ‘ہمارا ملک علیحدگی پسندی سے دوچار ہے سب سے زیادہ اسلام پسندی جو ہمارے قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بیماری کو کیا کہنا ہے آپ کو دوا تلاش کرنی ہوگی۔

    زیر داخلہ نے کہا کہ بل کا متن مذاہب سے مقابلہ نہیں کرتا ہے بلکہ اسلام پسندوں کے قبضے کی کوشش کے خلاف ہے۔

    اس قانون کے تحت اگر ڈاکٹروں نے لڑکیوں پر کنواری پن کا تجربہ کیا تو جرمانہ یا جیل بھی ہوگا۔

    ایک سے زائد شادی فرانس میں پہلے ہی کالعدم ہے لیکن نیا قانون درخواست دہندگان کو رہائش گاہ کے کاغذات جاری کرنے پر بھی پابندی عائد کرے گا۔

    فرانسیسی صدر اسلام اور مسلمان مخالف بیانات کے باعث متعدد مسلم ممالک میں نفرت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب پر مسلمانوں سے متعلق متنازع پالیسیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایمانوئل میکرون کو ‘دماغی معائنہ’ کرانے کی ضرورت ہے۔

    ایران نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر کہا تھا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون ‘انتہا پسندی’ کو ہوا دے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ فرانسیسی ہفتہ وار میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.