• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11148
    Shaista Khan
    Participant

    لاہور: اینکر پرسن مہرین سبطین نے بتا یا ہے کہ فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے والا شخص ضمانت پر رہا ہوگیا ہے، اس کے گھر کی کسی بھی خاتون کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

    ڈیلی پاکستان  کے مطابق  اینکر پرسن مہرین سبطین نے فیصل آباد میں ہونے گھریلو ملازمہ پر تشدد کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ کہ فیصل آباد کی ایڈن ویلی میں ایک منیر نامی شخص اوراس کی بیوی نے ہمسائے کے گھر میں کام کرنے والی ایک 12سالہ بچی کو گارڈز کے ہمراہ سرعام سڑک پر تشدد کیا۔ پہلے منیر نامی شخص نے اس کو تھپڑ مارے، پھر اس کی بیوی نے اس کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا اس کے بچوں نے بھی مارا لیکن سڑک پر گزرنے والے کسی بھی شخص نے انہیں نہیں روکا جو کہ افسوس ناک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بچی کا قصور صرف اتنا تھا کہ بچی منیر نامی شخص کے ہمسائے کے گھر میں ملازمہ تھی جس نے اس کے نواسوں کو مور کو پتھر مارنے سے روکا اور اس درمیان بچوں کی ہاتھا پائی ہوئی جس کی وجہ سے اس معصوم بچی (ملازمہ ) پر اتنا تشدد کیا گیا۔ 

    عالمی برادری بھارت میں اسلامی ثقافتی مقامات کو انتہا پسند ہندوتوا حکومت سے بچانے کیلئے کردار ادا کرے، دفتر خارجہ

    اینکر پرسن مہرین نے دعوی کیا ہے کہ باثرشخص منیر جو ایڈن ویلی کے مالک کے ساتھ کام کرتا ہے تو اس لیے اس کو گرفتار کیا اور پھر دوسرے دن ضمانت پر رہائی مل گئی۔ اس کے گھر کی کسی بھی خاتون کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمہ  بچی کو جب تھانے لایا گیا تو وہ بہت زیادہ ڈری اور سہمی ہوئی تھی جس کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچی نے کہا ہماری صلح ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منیر کی بیٹی نے ایک ٹی وی چینل کو موقف دینے کے لیے پراسرار جگہ سے کال کی تو اس نے کہا کہ یہ موٹی سی لڑکی (ملازمہ بچی) میرے بچوں کے اوپر بیٹھی تھی جب میں چھڑانے گئی تو اس نے میرے بھی بال کھینچے۔مہرین سبطین کا کہنا تھا کہ اگر پولیس سنجیدہ تھی تو اس کی کال کیوں ٹریس نہیں کی گئی۔

    غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے گاڑیاں تباہ کرنے کی منفرد پیش کش

    انہوں نے کہا کہ ایسے ملزمان کو سزا ملنی چاہیے کیونکہ اگر یہ ان کو سزا نہ ملی تو یہ واقعہ بھی پرانے واقعات کی طرح دب جائے گا جیسے زہرہ شاہ نامی ملازمہ  جس کو جج اور اس کی بیوی نے تشدد کرکے مار دیا تھا، جس طرح عظمی نامی بچی ملازمہ کو کرنٹ لگا کر قتل کیا گیا تھا۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.