Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10085
    Zaid
    Moderator

    ویب ڈیسک – کینیڈا کی ایک خاتون سیاح نے اٹلی کے ایک قدیم شہر پومپئی سے 15 برس قبل چوری کئے گئے نوادرات  یہ کہہ کر واپس کردیئے کہ وہ ان کیلئے آغاز ہی سے نحوست اور بربادی کا باعث بنے۔

    گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈین خاتون نکول نے پومپئی کے ایک ٹریول ایجنٹ کو ایک پارسل بھجوایا جس میں 2 موزائیک ٹائل، ایک صراحی کے کچھ حصے اور سیرامک کا ایک ٹکڑا شامل تھے، پارسل کے ساتھ ایک خط بھی تھا جس میں خاتون نے چوری کا اعتراف کیا تھا۔

    نکول نے وہ چوری سن 2005ء میں پومپئی کے دورے کے موقع پر کی تھی اور اس وقت ان کی عمر 20 برس تھی۔ اپنے خط میں ان کا کہنا تھا کہ چوری کئے گئے ان نوادرات کی وجہ سے ابتداء ہی سے ان پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور بدقسمتی و نحوست نے ان کے گرد ڈیرے ڈال دیئے۔ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو سخت مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں 2 مرتبہ چھاتی کا کینسر بھی ہوا۔

    خاتون نے مزید لکھا کہ ان چیزوں نے ان کی قسمت پھوڑ دی لہٰذا براہ مہربانی وہ واپس لے لی جائیں۔

    نکول کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہ چوری اس خواہش کے پیش نظر کی تھی کہ ان کے پاس کچھ ایسی تاریخی چیزیں ہوں جو کسی کے پاس نہ ہوں لیکن ان قدیم اشیاء میں اس تباہ شدہ شہر کی منفی شیطانی قوتیں موجود تھیں۔

    سولہویں صدی عیسوی میں دریافت ہونے والا قدیم تاریخی شہر پومپئی سن 79ء قبل مسیح میں آتش فشاں کی راکھ میں دفن ہوگیا تھا۔

    انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ انہیں سبق حاصل ہوچکا ہے اور وہ خدا سے معافی کی خواستگار ہیں۔

    نکول اکیلی نہیں جو تائب ہوئیں ان کے پارسل میں ایک اور خط اور ساتھ کچھ قدیم پتھر تھے جو ان کے ایک ہم وطن جوڑے نے ان ہی آثار قدیمہ سے سن 2005ء میں چوری کئے تھے۔

    اس جوڑے کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ پتھر بناء سوچے سمجھے اٹھا لئے تھے جس پر ہم بیحد شرمندہ اور معافی کے طلب گار ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس قدیم اطالوی شہر میں قائم عجائب گھر کو کئی نوادرات موصول ہوئے ہیں جو وہاں سے چوری کئے گئے تھے۔ واپس بھیجی جانیوالی ان اشیاء کے ساتھ اعتراف جرم کے خطوط بھی تھے جن میں ان افراد کی جانب سے ندامت کا اظہار کیا گیا تھا۔

    بسا اوقات سیاحوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان قدیم اشیاء کو اپنے پاس بطور یادگار رکھ لیں لیکن کچھ چور انہیں بیچنے کی غرض سے بھی اٹھا لے جاتے ہیں۔ پومپئی سے چرائی گئی ایسی اشیاء کی آن لائن فروخت کی کوششیں بھی دیکھی گئی ہیں۔ ان کھنڈرات سے سن 1958ء میں چرائی جانیوالی ایک اینٹ کو معروف آن لائن شاپنگ سائٹ ای بے پر فروخت کیلئے مشتہر کیا گیا تھا۔

    This article originally appeared on Samaa TV

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.