Jirga Pakistan

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7980
    M Khan
    Moderator

    اسلام آباد — پاکستان کی قومی اسمبلی نے مالی سال 21-2020 کے لیے پیش کردہ بجٹ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے جب کہ حزبِ اختلاف کی پیش کردہ ترامیم مسترد کر دی گئی ہیں۔

    قومی اسمبلی کے 12 جون سے جاری اجلاس میں بجٹ کی منظوری کے روز حکومت و حزبِ اختلاف نے اپنے اراکین اسمبلی کو خاص طور پر شرکت یقینی بنانے کی تاکید کی تھی۔

    حزبِ اختلاف کو امید تھی کہ وہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی علیحدگی اور اراکین کی ناراضگی کے سبب بجٹ منظور میں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرپائے گی تاہم حزبِ اختلاف عددی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہی۔

    واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 71 کھرب 37 ارب روپے ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب سے حکومتی آمدن کا تخمینہ محصولات کی صورت میں 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدن کی مد میں 1610 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال کا بجٹ 3437 ارب روپے خسارہ کا بجٹ ہے جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 7 فی صد بنتا ہے۔

    اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس کا آغاز ہوا تو حکومتی رہنماؤں اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے پارلیمانی سربراہوں کے درمیان لفظی تکرار شروع ہوئی۔

    حزبِ اختلاف نے حکومت کی پالیسیوں اور بجٹ کو ہدفِ تنقید بنایا جب کہ وفاقی وزرا نے ان کا دفاع کیا اور حزبِ اختلاف پر جوابی حملے کرنے کا موقع بھی نہ جانے دیا۔

    بجٹ کی منظوری کے دن ایوان میں متعدد بار حکومت اور حزبِ اختلاف کی بینچوں سے نعروں اور تنقیدی جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔

    مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کی وفاقی وزیر فواد چوہدری سے نوک جھونک ہوتی رہی تو مراد سعید بھی حسبِ معمول بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کا جواب دینے کے لیے تیار دکھائی دیے۔

    تاہم ایوان میں اس وقت عجیب صورتِ حال پیدا ہوئی جب بلاول بھٹو زرداری نے وزیرِ اعظم عمران خان کی گزشتہ ہفتے کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ وزیرِ اعظم دہشت گردوں کے بانی اسامہ بن لادن کو تو شہید کہتے ہیں لیکن بے نظیر بھٹو کو شہید نہیں کہہ سکتے۔

    بجٹ کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو اسپیکر اسد قیصر بیشتر کارروائی پر یہ کہہ کر گزر گئے کہ اسے پڑھا ہوا تصور کیا جائے۔

    حزبِ اختلاف نے بجٹ پر 21 ترامیم پیش کی تھیں جنہیں ووٹنگ کے عمل کے ذریعے مسترد کیا گیا۔

    اس سے قبل حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ فاصلے بڑھنے اور بعض حکومتی اراکین کی ناراضگی کے باعث حزبِ اختلاف کو امید تھی کہ وہ بجٹ منظوری میں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر پائے گی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجٹ کو مسترد کر دیا تھا۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی گزشتہ شب تحریکِ انصاف اور اتحادی جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا اور اراکینِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کے اجرا کی یقین دہانی کی تھی۔

    حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) اور حال ہی میں اتحاد سے الگ ہونے والی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رہنماوں نے وزیرِ اعظم کے عشائیے میں شرکت نہیں کی تھی۔

    مسلم لیگ (ق) کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے وزیرِ اعظم کے عشائیے کے وقت ہی اپنی رہائش گاہ پر اتحادی جماعتوں کے اراکین کو کھانے پر مدعو کیا ہوا تھا جس میں مسلم لیگ (ق) کے اراکین کے علاوہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (گی ڈی اے) کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، بلوچستان عوامی پارٹی کی ڈاکٹر زبیدہ جلال، خالد مگسی اور گوادر سے آزاد رکنِ اسمبلی اسلم بھوتانی نے شرکت کی۔

    پیر کو قومی اسمبلی کے ایوان میں کچھ فاصلے کے ساتھ اراکین کی نشستیں لگائی گئیں تو اکثر نشستوں پر اراکین براجمان تھے۔

    حکومتی و اتحادی جماعتوں کے اراکین دن بھر ہونے والے اجلاس میں موجود رہے جب کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ایوان میں آئے تاہم قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باعث اجلاس میں شرکت نہ کرسکے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.