Jirga South Asia

  • This topic has 0 replies, 1 voice, and was last updated 3 weeks ago by M Khan.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7730
    M Khan
    Moderator

    ویب ڈیسک — بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان مشرقی لداخ میں جھڑپ کے نتیجے میں انڈین آرمی کے کرنل اور دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ​بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کی شب مشرقی لداخ کے علاقے گلوان ویلی میں ایکچوئل لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے سلسلے میں اجلاس جاری تھا۔

    بھارتی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کے دوران جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک کرنل اور دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپ کے دوران چین کی فوج کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

    دوسری جانب چین نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت متنازع سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ چینی فوجیوں پر حملے کا ذمہ دار ہے۔

    چینی وازرتِ خارجہ کے ترجمان زاؤ لی جیان نے منگل کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی فوج نے پیر کو دو مرتبہ سرحد کو عبور کیا جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے درمیان جسمانی جھڑپ ہوئی۔

    خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق بھارتی فوج کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپ میں اسلحہ کا استعمال نہیں ہوا۔

    سرینگر سے وائس آف امریکہ کے نمائندے یوسف جمیل کے مطابق واقعہ کے بعد نئی دہلی میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور مسلح افواج کے تینوں شعبوں کے سربراہان سے بند کمرے میں ملاقات کی۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق عجلت میں بلائی گئی اس میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوراں گلوان وادی میں پیش آئے واقعہ پر مشاورت کی گئی اور آئندہ حکمتِ عملی کے بارے میں چند اہم فیصلے لیے گیے۔

    یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے سرحد پر کشیدگی جاری ہے جس میں کمی کے لیے فریقین کی فوج کے سینئر رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا عمل بھی جاری تھا۔

    دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ مشرقی لداخ سیکٹر میں بھارت کی طرف سے ایک سڑک اور پل کی تعمیر ہے جس پر چین کو اعتراض ہے۔

    چین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے کی جانے والی تعمیر متنازع علاقے میں ہو رہی ہے۔ تاہم بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ سب کچھ اپنی سرحد کے اندر کر رہا ہے۔

    بھارتی کشمیر کے سابق وزیر اعلٰی عمر عبداللہ نے ایک ٹوئٹ میں صورتِ حال کو خطرناک قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ تناؤ کم کرنے کے عمل کے دوران بھارتی فوج کے ایک کرنل اور دو اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا مطلب ہے کہ صورتِ حال عملاً کتنی کشیدہ ہے۔

    ہفتے کو بھارت کی برّی فوج کے سربراہ منوج موکنڈ نراوانے نے کہا تھا کہ علاقے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ چین کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

    حالیہ دنوں میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ لداخ کے مقام پر دونوں ملکوں کی فوج کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے۔

    گزشتہ ماہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے ثالثی کی پیش کش کی تھی جسے چین نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔

    بھارت نے بھی یہ کہا تھا کہ وہ چین کے ساتھ مل کر خود ہی اس مسئلے کا حل نکال لے گا۔

    واضح رہے کہ دونوں ملکوں میں 3500 کلو میٹر طویل سرحد کی مستقل حد بندی اب تک نہیں ہوئی ہے۔ سرحدی حد بندی پر دونوں ملکوں کا الگ الگ مؤقف ہے۔ 1962 میں سرحدی تنازع پر دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔

    Source: Urdu VOA

    • This topic was modified 3 weeks ago by M Khan.
    • This topic was modified 3 weeks ago by M Khan.
    • This topic was modified 3 weeks ago by M Khan.
    • This topic was modified 3 weeks ago by M Khan.
    • This topic was modified 3 weeks ago by M Khan.
    • This topic was modified 3 weeks ago by admin.
    • This topic was modified 3 weeks ago by admin.
Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.