Jirga South Asia

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12606
    Zaid
    Moderator

    بھارت میں حزب اختلاف کے راہنما راہل گاندھی نے کسانوں کے متنازعہ زرعی مخالف قوانین پر احتجاج کی وجہ سے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    لوک سبھا سے خطاب میں راہول گاندھی نے کہا کہ حکومت نے کبھی بھی جاری احتجاج کے دوران اپنی جانیں گنوانے والے کسانوں کو خراج عقیدت پیش نہیں کیا اور نہ ہی ان کی موت پر دومنٹ کی خاموشی اختیار کی۔

    راہل گاندھی نے نریندر مودی پر الزام لگایا کہ ’وزیراعظم چین کے آگے جھک گئے ہیں‘۔ انھوں نے وزیراعظم مودی سے سوال کیا کہ انھوں نے فوجیں پیچھے ہٹانے کے معاہدے میں انڈیا کی زمین چـین کے حوالے کیوں کی۔‘

    راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں انڈیا نے ’چین کے سامنے ماتھا ٹیک دیا ہے‘۔ یہ معاہدہ چین کی کامیابی ہے، انڈیا کی نہیں۔ انڈیا کی فوج چین کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وزیراعظم تیار نہیں۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں بیان دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں فوجی پیجھے ہٹانے کے بارے میں چین سے معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت چین فوجی ٹکڑیوں کو پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ’فنگر 8‘ کے مشرق کی سمت رکھے گا۔ اسی طرح بھارت بھی اپنی فوج کو پینگونگ جھیل کے پاچ ’فنگر 3‘ کے پاس مستقل پوسٹ پر رکھے گا اور ایسی ہی کارروائی دونوں فریق جنوبی کنارے پر بھی کریں گے۔

    راہول گاندھی نے راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نریندرا مودی نے اپنی زمین چین کو دیدی اور اپنی زمین پر مزید پیچھے ہٹ گیا ہے۔ پینگونگ جھیل کے کنارے ہماری زمین ’فنگر 4‘ تک ہے۔ نریندرمودی نے فنگر 3 سے فنگر 4 تک کی زمین چین کے حوالے کر دی ہے۔ بھارتی فوج ہر خطرہ مول لے کر کیلاش رینچ تک پہنچ پائی تھی۔ اب وزیراعظم نے یہ زمین بھی چین کو دے دی ہے۔ یہ صد فیصد بزدلی ہے اور وزیراعظم بزدل ہیں۔ وہ چین کا سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ وہ ہماری فوج کی قربانیوں کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا نے صرف دیا ہے اور چین سے حاصل نہیں کیا۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.