• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11938
    Syed Muhammad
    Moderator

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس نے مالم جبہ کے سیاحتی مقام پر رقص کرنے والے طلبا پر عوامی مقام پر نامناسب حرکات کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

    مالم جبہ کی پولیس نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے طالب علموں کے ایک تفریحی دورے کے دوران ایک ہوٹل میں نوجوانوں کے ہلہ گلہ کرنے کو فحاشی اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    پاکستان کی ذہین طالبہ نے 16ممالک کے300 طلبا کو مات دیدی

    ایک موقر قومی روزنامہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈانس کی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے ہوٹل مالک اور منیجر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ ہوٹل مالک اور منیجر کو عدالت کی طرف سے جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہائی مل گئی ہے تاہم پولیس کو 30 سے 40 ’نامعلوم‘ سیاحوں کی اب بھی تلاش ہے۔

    سوات کی وادی مالم جبکہ میں نجی ہوٹل میں سیاحوں کی طرف سے ڈانس پارٹی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، اس پر پولیس حکام نے نوٹس لیا اور سارے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا، جس کے بعد ایس ایچ او تھانہ مالم جبہ جاویداقبال کی مدعیت میں ہوٹل ایکٹ، لاؤڈ سپیکر ایکٹ، 33این ڈی ایم اے اور پی آرسی294 کے تحت ہوٹل مالک فضل خان اور منیجر حسنین احسان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ملزمان کو حراست کے بعد سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔

    مردوں کے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں پہلی خاتون امپائر

    تھانہ مالم جبہ میں پولیس کی جانب سے اپنی مدعیت میں چھ جنوری کو درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال چار دسمبر کو ہوٹل مینیجر اور مالک نے آئے ہوئے مہمانوں کو لاؤڈ سپیکر کی سہولت مہیا کی تھی جو کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی ہے۔

    درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’فحش حرکات کے علاوہ ملزمان نے کسی قسم کے سکیورٹی اقدامات بھی نہیں کیے تھے، جس پر ملزمان کو گرفتار کرکے ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔‘

    ایس ایچ او مالم جبہ جاوید اقبال کے مطابق یہ تقریباً ایک ماہ پہلے کا واقعہ ہے، جس میں باہر سے آئے کچھ مہمانوں نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی وغیرہ کی تھی۔ جس پر مقدمہ درج کیا گیا جبکہ ہوٹل منیجر اور مالک کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

    عدالت نے ان پر 40 ہزار روپیہ جرمانہ عائد کرکے ان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مقدمہ تاخیر سے درج ہونے کی وجہ ویڈیو کا تاخیر سے وائرل ہونا ہے۔

    مالی میں فرانس کے طیاروں کی شادی کی تقریب پر بمباری، 20 افراد ہلاک

    سوات کے ضلعی پولیس افسر قاسم علی خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوامی مقام پر نامناسب حرکات کے دفعہ شامل کرنے کی وجہ ملزمان کی جانب سے مقامی ثقافت کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے رقص کی مخلوط محفل منعقد کرنے پر لگائی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر یہ حساس معاملہ ہے اور جب مذکورہ ویڈیو وائرل ہوئی تو اس کے بعد لوگ مشتعل ہوئے اور انھوں نے احتجاج کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مقامی طور پر اس کو اخلاقی، تقافتی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے جس پر ہم نے یہ مقدمہ درج کیا ہے۔‘

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.