Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9241
    Shahid Masood
    Participant

    مانیٹرنگ ڈیسک – مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹرعلامہ پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ مذہبی آزادی کی آڑ میں مقدس ہستیوں کی توہین برداشت نہیں کی جاسکتی، قانون حرکت میں آئے، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں فساد برپا ہو، حکومت اور اس کے ادارے  ایسے شرپسند فرقہ پرست عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیں۔ مذہبی منافرت پھیلانے والے ملک دشمن ہیں۔ مقدس ہستیوں کی توہین کرکے کوئی عبادت قبول نہیں ہوسکتی۔ اس امر کا اظہار انہوں نے مرکز اہل حدیث راوی روڈ میں علماء کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

     انہوں نے کہا کہ تمام انبیاء کرام پر ایمان اور ان کی تعظیم اسلام کا لازمی جزو ہے اور خلفاء راشدین اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور احترام مسلمان پر واجب ہے۔ اصحاب رسول ﷺ کی بے ادبی اور ان کے متعلق بد گمانی اور بہتان بازی سے جہنم تو کمائی جاسکتی ہے جنت نہیں۔ 

    پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ واقعہ کربلا نے توحید کا سبق دیا اور بعض مسلمان شرک کی راہ پر چل رہے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور علی کرم اللہ وجہہ .حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ ۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ  ۔جیسی بلند مرتبت ہستیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانثار تھیں۔ ان کی توہین کرنے والے گستاخوں کی گرفت کے لئے سخت قانون سازی کرنی ہو گی ورنہ پاکستان میں لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے رہیں گے اور آئے روز کسی نہ کسی گستاخ عورت یا مرد کا قتل ہوتا رہے گا۔ یہ ہستیاں عظیم واسطے ہیں کہ ان کے بغیر دین و شریعت نا مکمل ہے، ان سے محبت حب نبوی کی دلیل ہے اور ان سے بغض ونفرت نبی سے بغض و عداوت کے مترادف ہے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.