• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12548
    Shahid Masood
    Participant

    میانمار میں آنگ سان سوچی کی حکومت کے خاتمے کے خلاف تیسرے روز بھی ملک گیر احتجاج جاری ہے جس میں لاکھوں افراد شریک ہیں۔

    بدھ مت مذہب کے بخشو اور طبی عملے کے ارکان بھی احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔

    دارالحکومت اور تجارتی حب ینگون میں بڑے پیمانے پر احتجاج سے نظام زندگی درہم برہم اور ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی اور پیر کو جاری احتجاج میں اتوار سے زیادہ عوام نے شرکت کی۔ پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کے بڑھتے دباؤ کو کم کرنے، خصوصاً نیپی دوو میں نیشنل ہائی وے پر مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    حکومت کا تختہ الٹنے اور آنگ سان سوچی کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والوں کو فوجی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ مزید احتجاج نہ کریں۔

    ملک بھر میں فوجی بغاوت کی بڑھتی ہوئی مخالفت اور مظاہروں پر سرکاری ٹی وی نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ فوجی حکمرانی کی مخالفت غیر قانونی ہے۔

    ٹی وی پر اینکر نے حکومتی فرمان پڑھتے ہوئے کہا کہ جو کوئی بھی ریاست کے استحکام، عوام کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    فوج نے گزشتہ ہفتے آنگ سان سوچی اور ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کرتے ہوئے ایک دہائی سے جاری عوامی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور اس اقدام کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.