Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11561
    Syed Muhammad
    Moderator

    نوازشریف کے دور حکومت میں مبینہ طورپراسرائیل کا دورہ کرنے والے مولانا اجمل قادری نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے بعد ایک وفد اسرائیل بھیجا تھا جس میں تجارت سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

    نجی ٹی وی سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اجمل قادری نے مولانا امجد قادری نے دعوی کیا کہ ’وزارت خارجہ کے لوگ جاننا چاہتے تھے کیا ہم اسرائیل سے تعلقات قائم کر بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر تعلقات قائم کرتے ہیں تو تمام تر مفادات کا رخ پاکستان کے حق میں ہوگا یا نہیں۔

    امریکہ کی جانب سے شام کی خاتون اوّل اور برطانیہ میں مقیم ان کے خاندان پر پابندی عائد کر دی گئی

    یہ ایک مطالعاتی سفر تھا اور تعلقات کی ابتدا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف دیکھنا چاہتے تھے کہ اسرائیل کے ساتھ تجارت اور تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں یا نہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ وہاں کن کن سے ملاقات ہوئی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اسرائیل کے وزارت خارجہ کے لوگوں اور کابینہ کے وزرا سے ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ ہمارے ہوٹل میں آئے تھے اور ان سے بڑی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ زیادہ تجارتی امور پر بات ہوئی کیوں کہ پاکستانی ٹیکسٹائل اسرائیلیوں میں بڑی مقبول ہیں جبکہ اسرائیل فرٹیلائزر اور زرعی ٹیکنالوجی میں آگے ہے۔ اس لیے اس معاملے پر گفتگو ہوئی۔

    اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل، 2 سال میں چوتھے عام انتخابات کا اعلان

    اجمل قادری کے مطابق ’اسرائیلی چاہتے تھے کہ سیاسی و سفارتی تعلقات کو فسلطین کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے۔ مگر ہم نے انہیں یہ باور کروایا کہ جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہمیں اعلیٰ اسرائیلی قیادت سے یقین دہانی نہیں کروائی جاتی تو ہم اس معاملے پر آگے نہیں بڑھ سکتے۔

    میزبان نے تصدیق کرنے کیلئے دوبارہ پوچھا کہ کیا اس میں مقتدرہ ( اسٹیبلشمنٹ) بھی شامل تھی۔ مولانا اجمل قادری نے بتایا کہ ’ان کی مشاورت سے ہی ایسا ہوا۔‘

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.