• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12046
    Azam
    Moderator

    لندن: واٹس ایپ کی جانب سے فون ایپ کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرنے کے اعلان کے بعد بہت سے صارفین ایسی ہی ایک ایپ سگنل کی جانب رجوع کررہے ہیں جبکہ برطانوی عوام ٹیلی گرام ایپ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اعلان کیا تھا کہ 8 فروری کے بعد وہ اپنے لگ بھگ دو ارب صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرے گا۔ لیکن معاملہ یہی ختم نہیں ہوتا فیس بک اپنے صارفین کے ڈیٹا کو کئی بار افشا کرچکا ہے اور اس پر بہت ہنگامہ بھی کھڑا ہوا ہے۔

    اب تازہ خبر یہ ہے کہ عین واٹس ایپ جیسی ایک ایپ ’سگنل‘ ایپ اسٹور پر پہلے نمبر پر آچکی ہے اور واٹس ایپ کا دور دور تک پتا نہیں کیونکہ ، دوسرے نمبر پر ایسی ہی ایک ایپ ’ٹیلی گرام‘ ہے اور پارلر جیسی ایپ بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ دوسری جانب واٹس ایپ کی سخت لیکن مبہم پالیسیوں کی وجہ سے لوگ اسے ترک کررہے ہیں۔ اس پر مختلف افواہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

    دوسری جانب ’واٹس ایپ کی قبول کرو یا ایپ چھوڑدو‘ پالیسی نے اگلے چند دنوں میں سے گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور پر اس کی مقبولیت کو کم کیا ہے۔ اس خبر کے لکھنے تک امریکا، برطانیہ، جرمنی ، فرانس، لبنان اور دیگر ممالک سے ڈاؤن لوڈ ہونے والی پہلی ایپ سگنل ہی ہے جبکہ بھارت، برازیل اور سنگاپور میں یہ تیسری سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ بھی ہے۔

    سگنل میں بھی ایک سے دوسرے کنارے ( اینڈ ٹو اینڈ) سخت اینکرپٹڈ معیار رکھا گیا ہے۔ سگنل کا اینکرپشن سافٹ ویئر اوپن سورس ہے اور اس میں دیگر کے مقابلے میں بگ اور نقائص بہت کم ہے۔ دوسری جانب یہ پیش رو ایپس کی طرح میٹاڈیٹا بھی استعمال نہیں کرتا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کے امیرترین آدمی ایلون مسک نے جیسے ہی سگنل استعمال کرنے کا اعلان کیا اس کے بعد سگنل کا نام دنیا بھر میں سنا گیا، اس کی ڈاؤن لوڈنگ میں اضافہ ہوا اور اس کے اسٹاک میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

    لیکن اس رفتار میں ٹیلی گرام بھی کسی پیچھے نہیں یورپ اور برطانیہ کے 15 لاکھ صارفین ہر روز واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کررہے ہیں۔ اس میں فولڈرآپشن، کلاؤڈ اسٹوریج اور ڈیسک ٹاپ ایپ کی سہولت اسے گھر بیٹھے کام، کانفرنس اور دیگر امور کے لیے موزوں بناتی ہے۔ جنوری میں ٹیلی گرام کی ڈاؤن لوڈنگ 11 فیصد تک بڑھی ہے۔

    واضح رہے ترقی پذیر ممالک کے برخلاف ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اپنے ڈیٹا کی حفاظت اور پرائیویسی کے متعلق بہت حساس ہوتے ہیں اور اسی لئے وہاں کے صارفین واٹس ایپ ترک کررہے ہیں۔

    This article originally appeared on Express News

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.