• This topic has 0 replies, 1 voice, and was last updated 4 months ago by Syed Muhammad.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9695
    Syed Muhammad
    Moderator

    مفتی محمد تقی عثمانی صاحب  نے ایف اے ٹی ایف بلز میں ایک قانون کو کرپشن کا دروازہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ کے ارکان اور صدر مملکت اسے منظور کرنے سے پہلے علماء اور اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کریں۔ 

    حکومت نے حالیہ دنوں میں ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کیلئے نئی قانون سازی کی ہے جس میں ایک قانون اسلام آباد وقف پراپر ٹیز بل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے وفاقی دارالحکومت نے وقف شدہ جائیدادوں کے بہتر انتظام کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ 

    ان قوانین کے خلاف اپوزیشن نے ایوان میں ہنگامہ کیا مگر حکومت نے عددی اکثریت اور بعض اپوزیشن ارکان کی غیرحاضری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام بلز قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کروا لیے۔ 

    اس معاملے پر مفتی تقی عثمانی کا موقف کافی تاخیر سے سامنے آیا ہے کیوں کہ وقف املاک بل سمیت دیگر بلز قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت کے دستخط سے باقاعدہ قوانین کی صورت ڈھل گئے ہیں۔ 

    مفتی تقی عثمانی نے اتوار کو ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ وقف املاک بل جو قومی اسمبلی نے جلدی میں پاس کیا ہے، اس کے کئی حصے شریعت کے بالکل خلاف ہیں اور کئی حصے آئین سے متصادم ہیں۔ 

    انہوں نے کہا کہ یہ قوانین وقف املاک کے اصل مقاصد کے لئے مضر اور کرپشن کا نیا دروازہ ہیں۔ سینیٹ کے ارکان اور صدر مملکت اسے منظور کرنے سے پہلے علماء اور  اسلامی نظریاتی کونسل سے ضرور رجوع کریں۔ 

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.